جے ڈی وینس نے اہم ایرانی شخصیت محسن رضائی کو خط لکھ دیا

Wait 5 sec.

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی اہم شخصیت محسن رضائی سے رابطہ کیا ہے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی سے رابطہ کیا ہے تاکہ امن مذاکرات بحال کیے جا سکیں اور ایران پر امریکا کے ممکنہ نئے حملے کو روکا جا سکے۔اخبار کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر جے ڈی وینس نے محسن رضائی کو ایک خط بھیجا ہے، خط اور اس کے بعد امریکی و ایرانی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت میں کسی امن تجویز کی تفصیلات کی بہ جائے مذاکرات کے لیے ایک ممکنہ لائحۂ عمل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔خط کا مقصد ایران سے تعطل کے شکار امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنا ہے، اخبار کے مطابق محسن رضائی ایران کی اہم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جو ماضی میں ایرانی پاسداران انقلاب کے طویل ترین عرصے تک کمانڈر رہ چکے ہیں۔امریکا نے حملہ کیا تو اسے درد ناک جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، ابراہم عزیزیٹرمپ کی جانب سے دوبارہ جنگ شروع کرنے کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، اس کے باوجود امریکی نائب صدر ایران سے مذاکرات کی بحالی کے لیے سرگرم ہیں۔اخبار نے بدھ ہی کو یہ بھی رپورٹ کیا کہ واشنگٹن نے خلیجی خطے کے متعدد عرب ممالک کو ہدایت کی ہے کہ وہ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ ’’مختصر مگر شدید فوجی کارروائی‘‘ کے لیے تیار رہیں۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔دوسری جانب، ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کی صورت میں ایران زیادہ وسیع پیمانے پر جوابی کارروائی کرے گا۔ محسن رضائی نے کہا کہ ایران امریکی مفادات سے وابستہ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق دیگر اہداف بھی شامل ہیں۔امریکا اور اسرائیل نے فروری کے اواخر میں ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، جس کے نتیجے میں خلیجی ممالک سے توانائی کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کی اہم بحری گزرگاہ کی ناکہ بندی شروع کر دی، جہاں سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل ہوتی تھی۔ ایران ان بحری جہازوں پر بھی باقاعدگی سے حملے کرتا ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں۔دوسری جانب، امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے، جس کا مقصد ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھانا ہے۔