انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی اتحاد کے تحت، آبنائے ہرمز اور یمن میں درپیش مسائل کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ترک صدارتی دفتر کا کہنا تھا کہ ترک صدر طیب اردوان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو فون پر صورتحال سے آگاہ کیا۔رپورٹس کے مطابق صدر اردوان نے امریکی صدر کو بتایا کہ ترکیہ، یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے مابین سفارتی عمل کو بحال کرنے کی کوششوں کی حمایت کرنے کو تیار ہے۔دوسری جانب خطے میں جنگ کے بڑھتے سائے کے دوران خلیجی ممالک نے امن معاہدے کی کوششیں تیز کردیں۔ قطری ثالثوں نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو نیا معاہدہ پیش کر دیا۔خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق معاہدے کا مسودہ اتوار کو تہران کے حوالے کیا گیا اور ایران کا جواب ہفتے کے آخر میں متوقع ہے۔نئے مسودے میں سات روز کی ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے۔برطانوی اخبار گارڈین کا کہنا ہے کہخلیجی ملک سمجھتے ہیں دوبارہ جنگ ہوئی تو تباہ کن ہو گی یہی وجہ ہے وہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر کام کر رہی ہیں۔قطر نے جو آئیڈیاز پیش کیے وہ ناقابل قبول ہیں، ایرانمعاہدے کے مطابق پابندیاں ہٹتے ہی ایران سات کے بجائے چار روز میں آبنائے ہرمز کھول دے گا جب کہ حوثی ملیشیا یمن کے علاقوں سے قبضہ ختم کردے گی۔