’ویٹو پاور کا استعمال امن کے لیے ہو، سیاسی فائدے کے لیے نہیں‘، اقوام متحدہ میں ہندوستان کا بیان

Wait 5 sec.

اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مندوب پرواتھنینی ہریش نے اقوام متحدہ (یو این) کی جنرل اسمبلی میں ویٹو پاور کے استعمال کے حوالے سے ہندوستان کا موقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ویٹو کا استعمال انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جانا چاہیے، خاص طور پر ان معاملات میں جو بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے سے متعلق ہیں۔ پی ہریش نے کہا کہ ’’ویٹو کا اختیار فی الحال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل اراکین کے پاس ہے۔ ہندوستان کا ہمیشہ سے یہ ماننا رہا ہے کہ یہ اختیار ایک ذمہ داری بھی ہے اور اس کا استعمال محدود سیاسی مفادات پورے کرنے کے لیے نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘VIDEO | New York: Permanent Representative of India to the United Nations Parvathaneni Harish (@AmbHarishP) delivered India's statement at the UNGA Plenary on the use of the Veto."India has always maintained that the veto which is right now a prerogative only of the five… pic.twitter.com/M2ZE2oeOa5— Press Trust of India (@PTI_News) October 27, 2026ہندوستانی مندوب نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قیام کے بعد سے تقریباً 200 قراردادوں پر 331 بار ویٹو کا استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین میں سے 2 نے ساڑھے تین دہائیوں (35 سال) سے زیادہ عرصے سے ویٹو کا استعمال نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب ویٹو کے زیادہ تر استعمال یا اس کے استعمال کی دھمکی صرف 3 مستقل اراکین کی جانب سے دی گئی ہے۔پی ہریش نے کہا کہ ’’2022 میں شروع کی گئی ویٹو پہل کو تبدیلی کی سمت میں ایک اہم قدم سمجھا گیا تھا۔ اس کے تحت ویٹو کا استعمال کیے جانے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بحث کو لازمی قرار دیا گیا، تاکہ متعلقہ ممالک کی جوابدہی طے کی جا سکے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 262/76 منظور کیے جانے کے بعد ویٹو کے بڑے پیمانے پر استعمال کا ریکارڈ اس پہل سے وابستہ امیدوں کے برعکس تصویر پیش کرتا ہے۔’شپنگ کو جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے‘، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کا بیانہندوستانی مندووب پی ہریش نے کہا کہ ویٹو کا معاملہ سلامتی کونسل میں اصلاحات سے متعلق 5 اہم موضوعات میں شامل ہے، جن پر بین الحکومتی مذاکرات یعنی آئی جی این کے تحت بحث ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 262/76 کی روح اور بڑے پیمانے پر مظالم کے واقعات سے متعلق کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن اب تک کا تجربہ بتاتا ہے کہ الگ الگ معاملات پر چھوٹے چھوٹے اقدامات کرنے سے مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے وسیع اور مؤثر کوششیں ضروری ہیں۔