ایران سے جنگ بندی وقت کا ضیاع تھی، ٹرمپ

Wait 5 sec.

مسیسیپی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مختصر مدت کی جنگ بندی کو وقت کا ضیاع قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور بحری ناکہ بندی کے باعث کئی ماہ سے ایران کا کوئی جہاز وہاں سے نہیں گزر سکا۔مسیسیپی میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے تاریخ کی بہترین بحری ناکہ بندیوں میں سے ایک نافذ کر رکھی ہے، جنگ بندی کے دوران چند جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کے علاوہ کئی ماہ سے کوئی ایرانی جہاز ناکہ بندی سے نہیں گزر سکا۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف جنگ شروع نہیں کی بلکہ ایران نے امریکا کے خلاف جنگ شروع کی تھی، مجھے جنگ بندی پسند نہیں تھی اور میں اسے وقت کا ضیاع سمجھتا تھا، تاہم متعلقہ ماہرین کی رائے سننے کو ترجیح دی۔ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایرانی بہترین ہتھیار تیار کرتے ہیں، لیکن امریکا نے انھیں بری طرح شکست دی ہے۔ اور عراق میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں ایران کے فراہم کردہ سڑک کنارے نصب بموں سے ہوئیں۔وسط مدتی انتخابات سے قبل ری پبلکن نشستیں بچانے کی مہمامریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ری پبلکن امیدواروں کی حمایت میں انتخابی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ وہ مختلف ریاستوں میں مسلسل جلسے کر رہے ہیں تاکہ کانگریس میں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے اپنے حامیوں کو متحرک کیا جا سکے۔ تاہم ایران کے ساتھ جنگ، مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے باعث ری پبلکن امیدواروں کو سخت انتخابی مقابلے کا سامنا ہے۔روئٹرز کے مطابق، ٹرمپ نے گزشتہ روز 26 اکتوبر کو ریاست مسیسیپی کے شہر کورنتھ میں جلسے سے خطاب کیا، جہاں انھوں نے ری پبلکن سینیٹر سنڈی ہائیڈ اسمتھ کی حمایت میں انتخابی مہم چلائی۔ ہائیڈ اسمتھ کو ڈیموکریٹ امیدوار اسکاٹ کولم کی جانب سے توقع سے زیادہ سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنی امیدوار کی کامیابی یقینی بنانے کے لیے کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ جلسے میں تقریباً 5 ہزار 500 حامی شریک ہوئے۔ٹرمپ کی انتخابی مہم کے آئندہ شیڈول میں ٹیکساس، جنوبی کیرولائنا اور آئیووا سمیت دیگر ریاستوں کے دورے شامل ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق، ٹرمپ آج 27 اکتوبر کو ٹیکساس کے شہروں لباک اور کارپس کرسٹی میں جلسے کرنے والے ہیں، جب کہ ری پبلکن حکام نے 31 اکتوبر کو کنساس کے شہر سلینا میں بھی ان کے جلسے کا اعلان کیا ہے۔امریکی مڈٹرم الیکشن3 نومبر کے انتخابات میں امریکی ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ ان انتخابات کے نتائج سے کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق 26 اکتوبر تک 3 کروڑ سے زیادہ امریکی اپنے ووٹ ڈال چکے تھے۔روئٹرز کے مطابق رائے عامہ کے جائزوں میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جب کہ سینیٹ میں بھی ان کے لیے کامیابی کا راستہ موجود ہے۔ اگر ڈیموکریٹس نے کانگریس میں اکثریت حاصل کر لی تو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے، دوسری جانب ڈیموکریٹس نے بھی اپنی انتخابی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔