سربیا (30 اکتوبر 2026): سربیا میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سرکاری ٹی وی چینل نے عوام کو اندھیرے میں رکھنے پر معافی مانگ لی۔دی ٹیلیگراف کے مطابق سربیا میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی وہاں کے سرکاری ٹی وی چینل نے بھی اپنا قبلہ درست کر لیا اور معلومات کے حوالے سے عوام کو اندھیرے میں رکھنے پر معافی مانگ لی۔سرکاری میڈیا چینل ریڈیو ٹیلی ویژن ووجوودینا (آر ٹی وی) برسوں تک عوام کو یکطرفہ خبریں دکھانے اور حکومت سے ضروری سوال نہیں پوچھنے کے لیے ناظرین سے معافی مانگی ہے۔ٹی وی کے نیوز اینکر گوران ایرر نے اپنے پروگرام میں کہا کہ ’برسوں تک ہم اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہے۔ ہم چپ رہے، واقعات کو نظرانداز کیا، یکطرفہ خبریں دکھائیں اور ضروری سوال نہیں پوچھے۔ اس کے لیے ہم اپنے ناظرین سے معافی مانگتے ہیں۔ “We reported events one-sidedly for years”: Serbian TV apologizes to viewers after Vučić’s party loses the electionRadio Television of Vojvodina (RTV) opened its news broadcast with footage of celebrations following the Student List’s election victory — scenes it had failed to show the previous evening.“For years, we failed to fulfill our duty. We kept silent, turned a blind eye, reported events one-sidedly, and failed to ask the necessary questions. For that, we owe our viewers an apology,” news anchor Goran Eror said.Following the controversy, RTV’s acting editor-in-chief Nenad Čačić resigned.A similar incident occurred in Hungary, where state television also apologized to viewers after Viktor Orbán’s election defeat.— NEXTA (@nexta_tv) October 27, 2026 سرکاری ٹی وی کی جانب سے یہ معافی نامہ گزشتہ روز اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ اتوار کو ہونے والے انتخابی نتائج سامنے آئے جس میں 12 برس سے کبھی صدر تو کبھی وزیراعظم کی حیثیت سے اقتدار میں رہنے والی ووسک پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔