تل ابیب: اسرائیلی اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ نیتن یاہو کی ٹیم انتخابی نتائج کو غیر معتبر قرار دینے کے لیے منظم مہم چلا رہی ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کے بیانات پہلے سے تیار کیے گئے تھے، وہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ وہ انتخابات ہار چکے ہیں اور انہیں اکثریت حاصل نہیں۔اُنہوں نے کہا کہ کسی کو بھی طے شدہ منصوبے کے مطابق کنیسٹ کے اجلاس اور حلف برداری کے عمل میں ذرا سی بھی تبدیلی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ اسرائیل کے الیکشن میں عرب جماعتیں کنگ میکر بن گئیں ہیں اور ریکارڈ انیس نشستیں حاصل کرلیں جبکہ نیتن یاہو کا اقتدار آخری سانسیں لینے لگا ہے۔ابتدائی انتخابی نتائج میں نیتن یاہو کے دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ گادی آئزنکوٹ کے اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں حاصل ہوئیں۔اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں، تاہم دونوں بڑے اتحاد سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔تم بیمار ہو، بہت بُرے لگ رہے ہو، صدر ٹرمپ صحافی پر پر برس پڑےعرب جماعتوں رعام اور جوائنٹ لسٹ نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرکے انتخابی سیاست میں اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے۔عرب جماعتوں کے رہنما احمد طیبی نے کہا ہے کہ ان کے تعاون کے بغیر اسرائیل میں سیاسی تبدیلی ممکن نہیں۔ عرب جماعتوں نے نیتن یاہو مخالف اپوزیشن کو حکومت سازی کے لیے حمایت کی پیشکش بھی کردی ہے۔