اتر پردیش میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران فارم-7 کے ذریعہ بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام حذف کرانے کی مبینہ کوشش کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ اس معاملہ پر سماعت کے دوران عرضی گزار نے الزام لگایا کہ ایک مخصوص طبقہ کے لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرانے کے لیے بڑی تعداد میں فارم-7 کی درخواستیں داخل کی گئیں۔اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی جانب سے کہا گیا کہ اس معاملے کو دیکھا جا چکا ہے اور افسران نے موقع پر جا کر درخواستوں کی جانچ کی تھی۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے بتایا کہ فارم-7 کی کئی درخواستیں ایک ساتھ داخل کی گئی تھیں اور افسران نے ان کی جانچ کی ہے۔ دوسری جانب عرضی گزار کے وکیل نے الیکشن کمیشن کے حلف نامہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان درخواستوں پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایک ضلع میں ایک مخصوص طبقہ کے لوگوں کے ناموں سے متعلق 32 فارم پر بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) کے دستخط ہونے کا الزام ہے۔ وکیل نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ ہونی چاہیے۔عرضی گزار کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ اسی طرح کی صورت حال کرناٹک اور کیرالہ میں بھی سامنے آئی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک میں چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) نے ایف آئی آر درج کرانے کے لیے شکایت بھیجی تھی، جبکہ اتر پردیش میں اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس پر چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) نے عرضی گزار سے الزامات سے متعلق دستاویزات عدالت میں داخل کرنے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ دستاویزات موصول ہونے کے بعد عدالت دیکھے گی کہ اس معاملے میں کیا کیا جا سکتا ہے۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے عرضی گزار کو مبینہ فرضی فارم-7 اعتراضات سے متعلق دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ شکایت پر کارروائی کرے اور عدالت میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کرے۔قابل ذکر ہے کہ فارم-7 کا استعمال ووٹر لسٹ میں درج کسی نام کو حذف کرنے کے لیے اعتراض یا درخواست دینے میں کیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں اب عدالت کے سامنے عرضی گزار کی جانب سے پیش کیے جانے والے دستاویزات اور الیکشن کمیشن کی اسٹیٹس رپورٹ اہم ہوں گے۔