گینگسٹر چھوٹا راجن اور 4 دیگر ملزمین کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے 2009 میں پونے میں شیوسینا لیڈر اجئے بھوسلے کے مبینہ قتل کی کوشش کے معاملے میں بری کر دیا ہے۔ عدالت نے پانچوں ملزمین کو قتل کی کوشش، مجرمانہ سازش اور آرمس ایکٹ کے تحت عائد الزامات سے بری کر دیا ہے۔ بری ہونے والوں میں پونے کے بلڈر سریندر کمار اگروال، محمد خان، وجے تامبٹ اور راجیش یادو شامل ہیں۔70 سالہ راجن نے سیکورٹی وجوہات کی بیاد پر تہاڑ جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ عدالتی کارروائی میں حصہ لیا۔ وہ فی الحال اسی جیل میں بند ہے۔ حالانکہ راجن کو گزشتہ سال اس معاملے میں ضمانت مل گئی تھی، لیکن وہ جیل میں ہی رہے گا، کیونکہ وہ 2011 میں صحافی جے ڈے کے قتل کے معاملے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ملزمین کو بری کرنے کی وجوہات بتانے والا تفصیلی حکم نامہ ابھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ 11 اکتوبر 2009 کا ہے، جب چھوٹا راجن کے 2 مبینہ ساتھیوں نے پونے میں اجئے بھوسلے کی کار پر فائرنگ کی تھی۔ بھوسلے اس حملے میں محفوظ رہے تھے، تاہم ان کا ڈرائیور زخمی ہو گیا تھا۔ سرکاری وکیل کے مطابق یہ واقعہ پونے کے رہنے والے سریندر کمار اگروال، آر کے اگروال اور وی کے اگروال کے درمیان جائیداد کے تنازع سے جڑا ہوا تھا۔ تفتیش کاروں نے الزام لگایا تھا کہ سریندر کمار نے تنازع حل کرنے اور جائیداد میں اپنا حصہ حاصل کرنے میں مدد کے لیے وجے تامبٹ سے رابطہ کیا تھا، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے راجن سے تعلقات تھے۔سرکاری وکیل نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ راجن نے فون پر آر کے اگروال کو دھمکی دی تھی اور مارچ سے مئی 2009 کے درمیان بھوسلے کو راجن کی جانب سے 50 سے زیادہ فون کال موصول ہوئے تھے۔ مبینہ طور پر بھوسلے کو اس لیے نشانہ بنایا گیا تھا، کیونکہ راجن کو شبہ تھا کہ وہ فریقین کے درمیان سمجھوتے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ فائرنگ کے واقعے سے پہلے راجن کے مبینہ ساتھیوں نے یکم مئی 2009 کو پونے کے ریذیڈنسی کلب میں آر کے اگروال کا سامنا کیا تھا اور ان پر جائیداد کا تنازع حل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ یہ معاملہ ابتدا میں پونے کے بنڈ گارڈن پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا اور بعد میں تحقیقات کے لیے مہاراشٹر سی آئی ڈی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔2015 میں بالی سے راجن کی حوالگی کے بعد سی بی آئی نے اس معاملے کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ اس کے علاوہ راجن کے خلاف درج 70 دیگر مقدمات بھی سی بی آئی نے اپنے ہاتھ میں لیے تھے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے راجن کو ایک منظم جرائم کے گروہ کا سرغنہ قرار دیا تھا اور اس کے مجرمانہ پس منظر اور متعدد جرائم میں مبینہ کردار کا حوالہ دیا تھا۔ تاہم، راجن کے وکیل دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ سازش یا بھوسلے پر حملے کی کوشش میں راجن کے ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔