واشنگٹن: امریکی کانگریس کے انتخابات میں چند روز باقی رہ گئے ہیں اور ان انتخابات سے پہلے ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے مسلمان امیدوار عبدل السید کی سینیٹ کی نشست کے لیے انتخابی مہم مذہبی منافرت اور سخت سیاسی بیان بازی کی زد میں آ گئی ہے۔کامیابی کی صورت میں عبدل السید امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن سکتے ہیں، ان کی انتخابی کامیابی سے آئندہ سال سینیٹ کا کنٹرول بھی متاثر ہو سکتا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 25 اکتوبر کو مشیگن میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عبدل السید کو جہادی قرار دیا اور کہا کہ اگر وہ منتخب ہوئے تو انھیں سینیٹ میں داخلے سے پہلے میٹل ڈیٹیکٹر سے گزرنا پڑے گا۔عبدل السید کے ریپبلکن حریف مائیک راجرز نے بھی ان کی امریکی وفاداری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ووٹرز کو یہ جاننے کا حق ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ ہیں یا بیرون ملک دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ۔ایران اپنے فوجیوں اور پولیس افسران کی تنخواہیں ادا نہیں کر پا رہا، ٹرمپریپبلکن سینیٹر برنی مورینو نے 28 اکتوبر کو اوہائیو میں خطاب کرتے ہوئے عبدل السید کے مذہبی عقیدے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انھیں واشنگٹن ڈی سی کے قریب بھی نہیں ہونا چاہیے۔ مورینو نے عیسائیت اور حضرت عیسیٰؑ کے حوالے سے بھی ان پر سوالات اٹھائے۔تاہم امریکی آئین کی شق 6 کے تحت کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے مذہبی عقیدے کو لازمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ اصول امریکا کے بانیوں کے اس تصور کی عکاسی کرتا ہے کہ سرکاری ذمہ داریوں کے لیے مذہب کو اہلیت کا معیار نہیں بنایا جائے گا۔سیاسی مبصرین کے مطابق میگا تحریک میں مذہب، ثقافت اور نسلی شناخت کی بنیاد پر امریکی ہونے کے تصور پر بحث شدت اختیار کر رہی ہے۔ مشیگن میں سینیٹ کی انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں ٹرمپ اور ریپبلکن رہنماؤں کے بیانات نے مذہبی آزادی، سیاسی رواداری اور امریکی آئین میں تمام شہریوں کے مساوی حقوق سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔