’آج یہ اجلاس چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف...‘، میرا کمار نے کچھ اس انداز میں شروع کیا عوامی مواخذہ

Wait 5 sec.

’’آج یہ اجلاس چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذہ کی کارروائی کے لیے طلب کی گئی ہے۔‘‘ لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار نے آج کچھ اسی انداز میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش پر ’علامتی پارلیمنٹ‘ سے خطاب کیا۔ انھوں نے اپنی سریلی آواز میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے ملک کے کروڑوں لوگوں کے نام نامناسب طریقے سے ووٹر لسٹ سے حذف کیے جا رہے ہیں، اور اس بارے میں سوال پوچھنے پر کوئی جوابدہی طے نہیں کی جاتی۔ اس لیے انڈیا بلاک کے ذریعہ طے کیا گیا کہ اجلاس طلب کر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذہ کی تحریک پیش کی جائے اور انھیں عہدہ سے ہٹا دیا جائے۔‘‘आज ये सभा CEC ज्ञानेश कुमार के खिलाफ जन-महाभियोग की कार्यवाही के लिए बुलाई गई है।हमारे देश के करोड़ों लोगों के नाम अनुचित तरीके से मतदाता सूची से काटे जा रहे हैं, वहीं इस बारे में सवाल पूछने पर कोई जवाबदेही तय नहीं की जाती।इसलिए INDIA गठबंधन द्वारा तय किया गया कि एक सभा… pic.twitter.com/0TlclfIxkD— Congress (@INCIndia) October 31, 2026علامتی پارلیمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے میرا کمار نے آگے کہا کہ ’’اس عوامی مواخذہ کی تجویز راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے ایوان کے سامنے رکھیں گے اور پھر اپنی تقریر پیش کریں گے۔‘‘ میرا کمار کی اجازت کے فوراً بعد کھڑگے نے کھڑے ہو کر اپنی بات رکھنی شروع کی۔ انھوں نے ملک کے پہلے نائب وزیر اعظم سردار پٹیل کے 151ویں یومِ پیدائش اور ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم اندرا گاندھی کے یومِ شہادت پر خراج عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں انھوں نے کہا کہ ’’ہندوستانی آئین میں آرٹیکل 326 کے تحت ہمارے شہریوں کو جو ووٹ کا حق ملا، آج وہ سنگین خطرے میں ہے۔ مہاتما گاندھی، نہرو، بابا صاحب امبیڈکر، سردار پٹیل، مولانا آزاد اور دیگر مجاہدین آزادی کو اس کے لیے بہت محنت کرنی پڑی تھی۔ ان عظیم ہستیوں نے پہلے ہمیں آزاد دلائی، پھر جمہوریت کو بچانے کے لیے آئین بنایا۔‘‘भारत के संविधान में आर्टिकल-326 के तहत हमारे नागरिकों को जो वोट का अधिकार मिला, आज वह गंभीर खतरे में है।महात्मा गांधी जी, नेहरू जी, बाबा साहेब अंबेडकर जी, सरदार पटेल जी, मौलाना आजाद जी और अन्य स्वतंत्रता सेनानियों को इसके लिए बहुत मेहनत करनी पड़ी थी। इन महापुरुषों ने पहले… pic.twitter.com/Dl5C4HqIDR— Congress (@INCIndia) October 31, 2026کھڑگے نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’باباصاحب نے کہا تھا کہ ووٹ کا حق عوام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اسی حق کی بنیاد پر عوام حکومت تشکیل دیتی ہے اور اسے ہٹاتی ہے۔ لیکن آج وہ حق خطرے میں ہے، کیونکہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار براہ راست وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی ہدایت پر الیکشن کمیشن چلا رہے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’آج سے 7 ماہ قبل اپوزیشن کے 193 اراکین پارلیمنٹ نے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کی تجویز دونوں ایوانوں میں رکھی تھی، لیکن ہمارے نوٹس خارج کر دیے گئے۔ آج ہم جو تجویز لائے ہیں، وہ ایک آئینی ادارہ کے وقار کو بچانے کے لیے ہے، کیونکہ چیف الیکشن کمشنر سے ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن آئین کے جذبات کے مطابق غیر جانبداری سے کام کرے اور عوام کا بھروسہ اس کے اوپر قائم رہے۔ اس لیے ملک میں ہو رہی ’ووٹ چوری‘ کو روکنے کے لیے انڈیا بلاک کے سبھی لیڈران، اراکین پارلیمنٹ اور این جی اوز کے لوگ ایک ساتھ آئے ہیں۔‘‘आज से 7 महीने पहले विपक्ष के 193 सांसदों ने CEC को हटाने का प्रस्ताव दोनों सदन में रखा था, लेकिन हमारे नोटिस खारिज कर दिए गए।आज हम जो प्रस्ताव लाए हैं, वह एक संवैधानिक संस्था की गरिमा को बचाने के लिए है, क्योंकि CEC से हमारा कोई निजी बैर नहीं है। हम चाहते हैं कि चुनाव आयोग… pic.twitter.com/KSKcaqmzWL— Congress (@INCIndia) October 31, 2026