لندن : معروف کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس سے گزشتہ روز تقریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثوں کی ریکارڈ چوری کے بعد سائبر سکیورٹی ماہرین ممکنہ ماسٹر مائنڈ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔سائبر سکیورٹی ماہرین مبینہ طور پر شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ گروپ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بائننس کے ڈیجیٹل والٹس سے تقریباً 20 منٹ کے دوران اربوں ڈالر کے اثاثے منتقل کیے گئے تھے، بلاک چین تجزیہ کاروں نے ابتدائی تحقیقات میں اس حملے کو شمالی کوریا سے منسوب کیے جانے والے ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر سے جوڑا ہے۔سائبر سکیورٹی محققین اور بلاک چین انٹیلی جنس ادارے ’ٹریڈر ٹریٹر‘ کی اصطلاح شمالی کوریا کے ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے مبینہ ہیکنگ یونٹ کے لیے استعمال کرتے ہیں جسے وسیع تر ’لازارس گروپ‘ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ٹریڈر ٹریٹر نام کہاں سے آیا؟اس ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر کا نام ایک ایسے میل ویئر سے منسوب ہے جسے بظاہر جائز کرپٹو ٹریڈنگ سافٹ ویئر کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ماہرین کے مطابق بائننس حملے میں ایسے طریقہ کار کے شواہد ملے جو شمالی کوریا سے منسلک ماضی کے سائبر حملوں میں بھی دیکھے گئے۔شمالی کوریا کے لیے سائبر حملے آمدن کا ذریعہ؟سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملے شمالی کوریا کے لیے بین الاقوامی پابندیوں کے باعث محدود معیشت میں آمدن حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن چکے ہیں۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایڈورڈ ہاویل نے بی بی سی کے حوالے سے بتایا کہ شمالی کوریا کے جوہری اور دیگر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگراموں کے تقریباً 40 سے 50 فیصد اخراجات سائبر اور کرپٹو کرنسی جنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم سے پورے کیے جاتے ہیں۔یاد رہے کہ شمالی کوریا ماضی میں بھی ایسے سائبر کرائم میں ملوث ہونے کے الزامات کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔ تاہم جنیوا میں شمالی کوریا کے مشن نے بائننس حملے سے متعلق ان الزامات پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔دوسری جانب امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی پہلے ہی ٹریڈر ٹریٹر کو کرپٹو کرنسی کی بڑی چوری کی متعدد کارروائیوں سے منسلک کرچکا ہے۔مزید پڑھیں : اربوں ڈالر کی کرپٹو چوری ! بائننس نے 90 فیصد رقم واپس کیسے لی؟واضح رہے کہ دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج کمپنی بائننس نے گزشتہ روز سائبر حملے میں ہیک ہونے والے 6.3 ارب ڈالر اثاثوں میں سے 90 فیصد کو بحال کرلیا ہے۔بائننس کے جاری بیان کے مطابق چوری ہونے والے باقی 10 فیصد اثاثوں کا تعلق نسبتاً کم لیکویڈیٹی رکھنے والے ٹوکنز سے ہے، جنہیں مطلوبہ مقدار میں دوبارہ حاصل کرنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔