ساحل پر آئی فونز کے ڈبے ملنے کی ویڈیو : حقیقت سامنے آگئی

Wait 5 sec.

لندن : سوشل میڈیا پر گزشتہ دنوں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو جس میں ساحل پر بڑی تعداد میں آئی فونز کے ڈبے جمع کرتے لوگوں کو دکھایا گیا ہے، کی حقیقت سامنے آگئی۔مذکورہ ویڈیو کو اکتوبر کے وسط میں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا تھا کہ یہ آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس کا سامان ساحل پر بہہ آنے کے مناظر ہیں۔خبر رساں ادارے روئٹرز کی فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق ویڈیو کا سب سے قدیم آن لائن ریکارڈ 16 اکتوبر کی ایک انسٹاگرام پوسٹ میں ملا، جس میں اسے خود ہی اے آئی سے تیار کردہ قرار دیا گیا تھا، یعنی یہ حقیقی فوٹیج نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ہے۔رائٹرز کے مطابق گوگل کے ’SynthID‘ نامی اے آئی مواد کی شناخت کرنے والے ٹول سے آئی فونز کے ڈبے ملنے والی ویڈیو کا تجزیہ کیا گیا تو اس میں موجود ویڈیو اور آڈیو دونوں میں گوگل اے آئی سے تیار یا ایڈٹ کیے جانے کی علامات سامنے آئیں۔تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ ’nativ0ra‘ نامی اکاؤنٹ سے اسی نوعیت کی 10 ویڈیوز پوسٹ کی گئی تھیں، جن میں آئی فون کے ڈبوں کو ساحل پر بہتے، سمندر میں تیرتے یا ایک تباہ شدہ بحری جہاز کے قریب دکھایا گیا ہے۔ ان تمام ویڈیوز پر ’اے آئی کانٹنٹ‘ کا لیبل موجود ہے۔رائٹرز کے مطابق مذکورہ اکاؤنٹ کو ’اے آئی جینریٹڈ پروفائل‘ کے طور پر نشان زدہ کیا گیا ہے، جبکہ اس کی تفصیل میں مواد کو ’Nature، Wildlife، AI Art‘ اور تخیل پر مبنی سنیماٹک کہانیوں کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اکاؤنٹ کے منتظم نے رائٹرز کی جانب سے کیے جانے والے اس تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔روئٹرز کی 14 اکتوبر کو جاری کردہ حقیقی ویڈیو میں آبنائے ہرمز کے قریب عمان کے ساحل سے دور کنٹینرز کے قریب سمندر میں تیرتا ملبہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس میں ساحل پر آئی فون کے ڈبے ملنے کا کوئی منظر موجود نہیں ہے۔فیکٹ چیکگوگل ٹول نے ویڈیو اور آڈیو میں گوگل اے آئی سے متعلق واٹرمارکس کی نشاندہی کی، جبکہ روئٹرز کو ملنے والی سب سے پہلی پوسٹ میں بھی ویڈیو کو واضح طور پر اے آئی سے تیار کردہ قرار دیا گیا تھا۔