اربوں ڈالر کی کرپٹو چوری ! بائننس نے 90 فیصد رقم واپس کیسے لی؟

Wait 5 sec.

لندن : دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج کمپنی بائننس نے گزشتہ روز سائبر حملے میں ہیک ہونے والے 6.3 ارب ڈالر اثاثوں میں سے 90 فیصد کو بحال کرلیا ہے۔بائننس کی جانب سے ہفتے کو جاری بیان کے مطابق چوری ہونے والے باقی 10 فیصد اثاثوں کا تعلق نسبتاً کم لیکویڈیٹی رکھنے والے ٹوکنز سے ہے، جنہیں مطلوبہ مقدار میں دوبارہ حاصل کرنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ترجمان کمپنی نے بتایا کہ صارفین کے نقصانات کی تلافی کے لیے بائننس نے اپنے اندرونی فنڈز میں تقریباً 6.34 ارب ڈالر مختص کیے ہیں۔اس کے علاوہ صارفین کے اثاثوں کو سکیورٹی خطرات اور ممکنہ سائبر حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے قائم کیے گئے ایک ارب ڈالر کے ’سکیور ایسٹ فنڈ فار یوزرز‘ سے بھی جزوی رقم استعمال کی گئی ہے۔بائننس کے شریک چیف ایگزیکٹو رچرڈ ٹینگ نے گزشتہ روز میڈیا کو تھا کہ کمپنی پر ہونے والا سائبر حملہ انتہائی پیچیدہ نوعیت کا تھا، ان کے مطابق حملہ آوروں نے ایک متاثرہ لیپ ٹاپ اور ایسے نقصان دہ سافٹ ویئر کا استعمال کیا جس کا مقصد حملے کے شواہد مٹانا تھا، جس کے باعث واقعے کی تحقیقات اور حملے کے ماخذ کا سراغ لگانا مزید مشکل ہوگیا۔FOLLOW US ON ARY TUBEانہوں نے مزید کہا کہ وہ صارفین کے لیے رقم نکلوانے کی سہولت بحال کرنے کے اپنے مقررہ شیڈول پر قائم ہیں اور توقع ہے کہ واپسی کی سروسز اتوار، یکم نومبر کو دوبارہ شروع کردی جائیں گی۔مزید پڑھیں :تاریخ کی سب سے بڑی سائبر ڈکیتی، ہیکرز 6 ارب 30 کروڑ ڈالر لے اڑے یاد رہے کہ گزشتہ روز دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس پر تاریخ کے سب سے بڑے سائبر حملے میں ہیکرز 6 ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے لے اڑے۔ہیکنگ کی تصدیق بائنانس کمپنی کے بانی چانگ پینگ ژاؤ نے بھی کردی تھی، ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا تھا کہ ہیکرز نے بائننس کے ایک ڈیو اوپس انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک کرکے کمپنی کے سسٹم تک رسائی حاصل کی اور غیر قانونی ٹرانزیکشنز کے ذریعے اربوں ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی منتقل کردی۔