نیویارک(28 اکتوبر 2026): آئی اے ای اے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا تاحال سراغ نہیں مل سکا ہے۔بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے، جبکہ جوہری تنصیبات کی مرمت یا بحالی کی بھی کوئی علامت سامنے نہیں آئی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے رافیل گروسی کا کہنا تھا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے بین الاقوامی معائنہ کار ایران کی متاثرہ جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں، جس کی وجہ سے جوہری مواد کے ممکنہ انحراف کی تصدیق کرنا ممکن نہیں رہا۔انہوں نے زور دیا کہ ایران کو جوہری مواد کی نگرانی سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔آئی اے ای اے کے سربراہ نے خطے میں جاری سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ عمان، پاکستان، قطر اور مصر کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے اہم سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران 2025 کے قاہرہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرے، کیونکہ معائنہ کاروں کی واپسی اور جوہری تنصیبات کی درست تصدیق کے لیے اب سفارت کاری ناگزیر ہو چکی ہے۔