دہلی کی ایک عدالت نے بدھ کے روز ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سابق صدر برج بھوشن شرن سنگھ کو 4 خاتون پہلوانوں کی جانب سے درج کرائے گئے مبینہ جنسی ہراسانی کے معاملے میں انہیں بری کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی اپیل پر اپنا جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیا ہے۔ راؤز ایونیو کورٹ نے سنگھ کو ایک ہفتے کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے کہا کہ سنگھ کو جواب دینے کا مزید کوئی موقع نہیں دیا جائے گا۔ یہ اپیل 4 خاتون پہلوانوں نے دائر کی ہے، جس میں سنگھ اور ڈبلیو ایف آئی کے سابق اسسٹنٹ سکریٹری ونود تومر کو بری کرنے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اپیل میں ونود تومر کو مجرمانہ دھمکی دینے کے الزام سے بری کیے جانے کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔#BREAKING The Sessions Court granted BJP leader Brij Bhushan Sharan Singh a final one-week opportunity to file his response in the case challenging the Rouse Avenue Court’s decision to acquit him in the alleged sexual harassment of women wrestlers case. The court said no further… pic.twitter.com/OcKAghayfZ— IANS (@ians_india) October 28, 2026اپیل دائر کرنے والوں نے کہا ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانونی طور پر برقرار رہنے کے قابل نہیں ہے اور ریکارڈ پر موجود شواہد کا درست طریقے سے جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔ 28 ستمبر کو راؤز ایونیو کورٹ نے سنگھ اور تومر کو نوٹس جاری کر کے اپیل پر ان کے جواب طلب کیے تھے۔ اس کے بعد 9 اکتوبر کو معاملہ سماعت کے لیے درج کیا گیا، جب عدالت نے جواب دہندگان کو اپنے جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت دیا اور آئندہ سماعت کے لیے 28 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی۔ 3 اگست کو سنائے گئے فیصلے میں ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ اشونی پوار نے سنگھ اور تومر کو بری کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ استغاثہ ان کے خلاف الزامات کو بلا شبہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔جنسی ہراسانی معاملے میں برج بھوشن سنگھ کو نوٹس، خاتون پہلوانوں نے بری کرنے کے فیصلہ کو کیا چیلنجیہ معاملہ جنوری 2023 کا ہے، جب اولمپین ونیش پھوگاٹ، ساکشی ملک اور بجرنگ پونیا سمیت کئی پہلوانوں نے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ اس دوران برج بھوشن شرن سنگھ پر جنسی ہراسانی اور دھمکی دینے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ پہلوانوں نے ڈبلیو ایف آئی کے سربراہ کے عہدے سے سنگھ کے استعفے اور فیڈریشن کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس تنازعہ کے بعد انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (آئی او اے) کی صدر پی ٹی اوشا کو شکایت موصول ہونے پر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کے بعد مرکزی وزارت کھیل نے ڈبلیو ایف آئی کے کام کاج کو معطل کر دیا۔ مئی 2024 میں راؤز ایونیو کورٹ نے سنگھ کے خلاف جنسی ہراسانی اور 5 خاتون پہلوانوں کی عزت مجروح کرنے کے الزامات طے کیے۔ سنگھ نے خود کو بے قصور بتایا تھا اور مقدمے کی سماعت کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔