سمندری طوفان ’ارنب‘ نے بدھ (28 اکتوبر) کی علی الصبح آندھرا پردیش اور یانم کے ساحل سے ٹکرانا شروع کر دیا۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق ساحل سے ٹکرانے کے دوران ہوا کی زیادہ سے زیادہ رفتار 125 سے 135 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، جبکہ تیز ہواؤں کی رفتار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچی۔ آئی ایم ڈی کے مطابق طوفان کے ابتدائی طور پر آہستہ آہستہ شمال-مغرب کی جانب بڑھنے اور پھر شمال-شمال-مغرب کی طرف مڑنے کا امکان ہے۔Cyclone Arnab began its landfall process early Wednesday along the Andhra Pradesh and Yanam coasts, bringing torrential downpours in the area, said the India Meteorological Department (IMD).According to the IMD, the cyclone maintains a core intensity of 125 to 135 kmph, gusting… pic.twitter.com/vaf1rCnh16— NDTV (@ndtv) October 28, 2026گزشتہ 3 گھنٹوں کے دوران یہ 3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمال مغرب کی جانب بڑھا ہے۔ بدھ کی صبح 2:30 بجے یہ طوفانی نظام آندھرا پردیش کے ساحل کے قریب 16.4 ڈگری شمالی عرض البلد اور 82.0 ڈگری مشرقی طول البلد کے آس پاس مرکوز تھا۔ اس وقت یہ نرساپور (آندھرا پردیش) سے تقریباً 30 کلومیٹر مشرق میں، یانم (پڈوچیری) سے 45 کلومیٹر جنوب-جنوب-مغرب میں، کاکیناڈا (آندھرا پردیش) سے 70 کلومیٹر جنوب-جنوب-مغرب میں، مچھلی پٹنم (آندھرا پردیش) سے 90 کلومیٹر مشرق-شمال-مشرق میں اور باپٹلا (آندھرا پردیش) سے 170 کلومیٹر مشرق-شمال-مشرق میں واقع تھا۔تمل ناڈو میں شدید بارش سے سڑکیں زیرِ آب، خلیج بنگال کے طوفان ’ارنب‘ میں شدت کا خدشہ’ارنب‘ کے شمال مغرب کی جانب بڑھتے رہنے اور آئندہ 3 گھنٹوں میں باپٹلا اور وشاکھاپٹنم کے درمیان، یانم کے جنوب کے قریب، انتہائی شدید سمندری طوفان کی شکل میں آندھرا پردیش اور یانم کے ساحل کو پار کرنے کا امکان ہے۔ اس دوران ہوا کی زیادہ سے زیادہ رفتار 125 سے 135 کلومیٹر فی گھنٹہ رہے گی، جبکہ تیز جھونکوں کی رفتار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔سمندری طوفان ’ارنب‘ کے ساحل سے ٹکرانے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور اس کے شمالی حصے میں موجود گھنے، گھومتے ہوئے بادل اندرونی علاقوں میں داخل ہو چکے ہیں۔ طوفان کا مرکز اس وقت ساحلی پٹی کے انتہائی قریب ہے، جس کی وجہ سے آئندہ 3 گھنٹوں تک ساحل سے ٹکرانے کا یہ عمل جاری رہنے کا امکان ہے۔ مچھلی پٹنم میں واقع ڈوپلر ویدر ریڈار کے ذریعے طوفان پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ 28 اکتوبر کو صبح 4:30 بجے تک ریکارڈ کی گئی بارش کے اعداد و شمار کے مطابق گوپال پور میں 94.0 ملی میٹر، پوری میں 67 ملی میٹر، بھونیشور میں 38 ملی میٹر اور چاند بالی میں 22.4 ملی میٹر بارش درج کی گئی ہے۔آئی ایم ڈی نے آندھرا پردیش اور آس پاس کے علاقوں میں انتہائی شدید بارش کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ طوفان کا اثر کئی پڑوسی ریاستوں تک پھیل سکتا ہے۔ 28 اکتوبر کو بعض مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہونے کا امکان ہے، جبکہ جنوبی اوڈیشہ میں الگ الگ مقامات پر انتہائی شدید بارش ہو سکتی ہے۔ شمالی اوڈیشہ میں بھی کچھ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش کا امکان ہے۔ 29 اکتوبر کو اندرونی اوڈیشہ کے بعض مقامات پر شدید بارش کا امکان ہے۔آئی ایم ڈی نے 28 اکتوبر کو مشرقی تلنگانہ کے بعض مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش کی پیش گوئی بھی کی ہے۔ جھارکھنڈ میں 28 اکتوبر کو کچھ مقامات پر شدید بارش ہونے کا امکان ہے، جبکہ 29 اکتوبر کو بعض مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ڈی نے مشورہ دیا ہے کہ طوفان کے ساحل کے قریب پہنچنے اور آندھرا پردیش سمیت پڑوسی ریاستوں میں اس کے اثرات پھیلنے کے پیش نظر بدلتے ہوئے موسمی حالات پر کڑی نظر رکھی جائے۔