بیجنگ: چین نے مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل علاقائی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہری اہداف بالخصوص ہوائی اڈوں پر حملوں کی مخالفت کی ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گوو جیاکون نے بدھ کومعمول کی پریس بریفنگ کے دوران حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر نئے حملوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ چین متعلقہ فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جلد امن و سکون بحال ہو سکے۔حوثیوں نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے سعودی عرب میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا جن میں سعودی وزارتِ دفاع اور جنوب مغربی سعودی عرب میں واقع ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل ہیں۔دوسری جانب خطے میں جنگ کے بڑھتے سائے کے دوران خلیجی ممالک نے امن معاہدے کی کوششیں تیز کردیں۔ قطری ثالثوں نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو نیا معاہدہ پیش کر دیا۔خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق معاہدے کا مسودہ اتوار کو تہران کے حوالے کیا گیا اور ایران کا جواب ہفتے کے آخر میں متوقع ہے۔ نئے مسودے میں سات روز کی ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے۔برطانوی اخبار گارڈین کا کہنا ہے کہخلیجی ملک سمجھتے ہیں دوبارہ جنگ ہوئی تو تباہ کن ہو گی یہی وجہ ہے وہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر کام کر رہی ہیں۔جے ڈی وینس نے اہم ایرانی شخصیت محسن رضائی کو خط لکھ دیامعاہدے کے مطابق پابندیاں ہٹتے ہی ایران سات کے بجائے چار روز میں آبنائے ہرمز کھول دے گا جب کہ حوثی ملیشیا یمن کے علاقوں سے قبضہ ختم کردے گی۔