برطانیہ نے 3 جوہری آبدوزیں بیک وقت سمندر میں اُتار دیں

Wait 5 sec.

لندن: برطانیہ نے گزشتہ 5 سالوں میں پہلی بار اپنی 4 میں سے 3 جوہری ڈیٹرنٹ آبدوزوں کو بیک وقت سمندرمیں تعینات کردیا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان میں سے کم از کم ایک آبدوز جوہری وار ہیڈز لے جانے والے بیلسٹک میزائلوں سے لیس ہے۔رپورٹ میں سمندر میں موجود ان تین آبدوزوں کے نام ایچ ایم ایس وین گارڈ، ایچ ایم ایس ویجیلینٹ اور ایچ ایم ایس وینجنس بتائے گئے ہیں جبکہ چوتھی آبدوز، ایچ ایم ایس وکٹوریس اس وقت مرمت کے عمل سے گزر رہی ہے۔واضح رہے کہ سلامتی کی ضمانت کے طور پر برطانیہ اپنی 4 میں سے کم از کم ایک آبدوز کو مسلسل سمندر میں تعینات رکھتا ہے۔رائل نیوی پر نظر رکھنے والے آزاد ادارے ‘نیوی لک آؤٹ’ کے مطابق 1969 سے لے کر اب تک بیلسٹک میزائلوں سے لیس کم از کم ایک آبدوز بغیر کسی وقفے کے مسلسل سمندر میں موجود رہتی ہے۔وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان کے مطابق ملک کا جوہری ڈیٹرنٹ ’ہماری قومی سلامتی کی بنیاد ہے جو ہر دن اور ہر لمحے برطانیہ اور ہمارے نیٹو اتحادیوں کی حفاظت کرتا ہے‘۔قطر نے جو آئیڈیاز پیش کیے وہ ناقابل قبول ہیں، ایرانترجمان نے مزید کہا ’ہم وہ واحد یورپی اتحادی ہیں جس نے نیٹو کے دفاع کے لیے اپنا جوہری ڈیٹرنٹ مختص کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام نیٹو اتحادی پہلے ہی ہمارے جوہری ڈیٹرنٹ کے تحفظ سے مستفید ہو رہے ہیں‘۔