قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات تک اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش

Wait 5 sec.

دوحہ: امریکا، ایران جنگ روکنے کے لیے قطر نے سفارتی کوششیں تیز کر دیں، قطر کی قیادت میں علاقائی ثالث امریکا ایران مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق قطر کی قیادت میں علاقائی ثالث امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے اور وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی معاہدہ طے کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔قطر، ایران کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اپنی بمباری سے تباہ شدہ جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو رسائی دے، جس کے بدلے امریکا ایران پر عائد بعض پابندیوں میں ریلیف دے دے گا۔اگر آخری وقت میں کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو وسط مدتی انتخابات کے کچھ ہی عرصے بعد دوبارہ بڑے پیمانے پر بمباری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل ایال زامیر نے پیر کو امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ، ایڈمرل بریڈ کوپر سے رابطہ کیا ہے تاکہ ان کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق، متوقع فوجی کارروائی میں ایک ہفتے تک ایران کی قیادت، توانائی کے شعبے، جوہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔صدر ٹرمپ کا مذاکرات سے متعلق اعترافصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایک مختصر انٹرویو میں ایکسیوس کو بتایا کہ ثالثوں کے ذریعے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ انھیں معلوم نہیں کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں کوئی پیش رفت ہو سکے گی یا نہیں۔انھوں نے کہا ’’ہمیں یہ کام مکمل کرنا ہے، خواہ کسی معاہدے کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں یا نہیں۔‘‘ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ’’اگرچہ ہماری بہادر مسلح افواج وطن کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں، لیکن ایران سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع دیتا جا رہا ہے۔‘‘قطر کو پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کی حمایت حاصلثالثی کوششوں کی قیادت قطر کر رہا ہے، جب کہ پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی اس کی معاونت کر رہے ہیں۔ قطری مذاکرات کار علی الثوادی نے رواں ہفتے کے آغاز میں تہران کا دورہ کیا، جہاں انھوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر ایرانی حکام سے بات چیت کی۔مذاکرات سے آگاہ ایک علاقائی ذریعے نے بتایا کہ قطری حکام نے امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے تجاویز پیش کیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دست بردار ہو، جب کہ ایران کا اصرار ہے کہ امریکا پہلے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے اور ایران کے منجمد اثاثے جاری کرے۔جے ڈی وینس نے اہم ایرانی شخصیت محسن رضائی کو خط لکھ دیاثالث ایران کو بتا رہے ہیں کہ ان تجاویز کو قبول کرنا وسط مدتی انتخابات کے بعد بڑے حملوں سے بچنے کا شاید واحد راستہ ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے سیکیورٹی حکام نے تہران کے دورے کے دوران بھی یہی پیغام ایرانی حکام تک پہنچایا۔ ایرانی حکام نے جواب دیا کہ وہ آئندہ چند روز میں ان تجاویز کے لیے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔تہران کے دورے کے بعد سعودی حکام نے وائٹ ہاؤس کو بتایا کہ ایرانی قیادت وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکا اور اسرائیل کی ممکنہ مشترکہ بمباری کے بارے میں تشویش رکھتی ہے۔ سعودی عرب نے ٹرمپ سے درخواست کی کہ وہ جنگ شروع کرنے میں جلد بازی نہ کریں اور مذاکرات کے لیے مزید وقت دیں۔ایران نے جوہری تنصیبات پر اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی واپسی کے لیے 2025 کے قاہرہ معاہدے کی بحالی کی تجویز دی ہے، ایران کی جانب سے جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر تیل فروخت کرنے اور منجمد اثاثوں کے اجرا میں ریلیف ملنے کا امکان ہے، وائٹ ہاؤس مجوزہ معاہدے پر ایران کے ردعمل کے بعد اپنا مؤقف طے کرے گا۔