ایم ایل سی انتخاب میں ناگپور سیٹ پر قبضہ کرنے کے بعد کانگریس پی ایم مودی کو بری طرح نشانے پر لے رہی ہے۔ پی ایم مودی نے گزشتہ روز ایم ایل سی انتخاب میں کانگریس کی کارکردگی پر سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ بیلٹ پیپر سے انتخاب کے باوجود ہر جگہ شکست ملی۔ اب آر ایس ایس کے قلعہ ناگپور میں فتحیابی نے کانگریس کو جوابی حملہ کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے تو اپنے بیان میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ’’پروچن منتری جی کو خود احتسابی کی ضرورت ہے، لیکن وہ دوسروں کو ’پروَچن‘ (تبلیغ) دے رہے ہیں۔‘‘प्रवचनमंत्री जी को आत्मविश्लेषण की ज़रूरत है, लेकिन वे दूसरों को प्रवचन दे रहे हैं!कांग्रेस की सीटें गिनने से पहले काश यह भी विचार कर लेते कि उनके अपने संसदीय क्षेत्र वाराणसी की दोनों सीटों पर भाजपा क्यों हारी और RSS के गढ़ नागपुर में कांग्रेस ने भाजपा को कैसे हराया?मोदी जी,…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) October 29, 2026دراصل بی جے پی کو صرف ناگپور میں ہی شکست نہیں ملی ہے، بلکہ پی ایم مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی کی دونوں سیٹوں پر بھی ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 4 ریاستوں کی 28 ایم ایل سی سیٹوں میں سے این ڈی اے کو 16 سیٹوں پر، جبکہ دیگر پارٹیوں کو 12 سیٹوں پر جیت ملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس لیڈران پون کھیڑا اور جئے رام رمیش خاص طور سے پی ایم مودی کے ذریعہ گزشتہ روز کی گئی سوشل میڈیا پوسٹ پر تلخ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔جئے رام رمیش نے آج صبح ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں پی ایم مودی کو نصیحت کی ہے کہ ’’کانگریس کی سیٹیں گننے سے پہلے کاش یہ بھی غور کر لیتے کہ ان کے اپنے پارلیمانی حلقہ وارانسی کی دونوں سیٹوں پر بی جے پی کیوں ہاری، اور آر ایس ایس کے قلعہ ناگپور میں کانگریس نے بی جے پی کو کس طرح شکست دی؟‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’مودی جی، ٹرولنگ بند کیجیے۔ کروڑوں کنبے کمر توڑ مہنگائی سے پریشان ہیں، نوجوان بے روزگار ہیں اور نجی سرمایہ کاری ٹھپ پڑی ہے۔ تکبر چھوڑ کر ان ایشوز پر غور کیجیے۔‘‘ایم ایل سی انتخابی نتائج بی جے پی کے لیے بھی فکر انگیز، پی ایم مودی کے پارلیمانی حلقہ میں شکست پر کانگریس نے کیا طنزجئے رام رمیش نے اس سوشل میڈیا پوسٹ میں ان سیٹوں کی طرف اشارہ بھی کیا ہے، جہاں بی جے پی کو ناکامی ہاتھ لگی ہے۔ انھوں نے پی ایم مودی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’وارانسی اور ناگپور سے لے کر لکھنؤ، پریاگ راج، پٹنہ کی عوام نے واضح طور سے آپ کی پالیسیوں کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پاس کی ہے۔‘‘