تمام آبادکاروں اور یہودی بستیوں کو مقبوضہ علاقوں سے ہٹایا جائے، یو این کمیشن کا مطالبہ

Wait 5 sec.

نیویارک: اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں جاری نسل کشی کے دوران اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام آبادکاروں اور یہودی بستیوں کو مقبوضہ علاقوں سے ہٹایا جائے، اور فلسطینیوں کی زمینیں انھیں لوٹائی جائیں۔مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، اور اسرائیل کے بارے میں اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے گزشتہ روز ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم، جن میں قتلِ عام، ظلم و ستم، تشدد، ریپ اور جنسی تشدد کی دیگر اقسام شامل ہیں، کا ارتکاب کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے فلسطینی شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا رہا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو پیش کی گئی اس رپورٹ میں ریاستی اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکتوں اور جسمانی و ذہنی نقصان پر توجہ دی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد مغربی کنارے کی صورت حال سنگین طور پر بگڑ گئی ہے۔ مغربی کنارے میں فضائی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2008 سے 6 اکتوبر 2023 تک مغربی کنارے میں فضائی حملوں کے نتیجے میں 6 فلسطینی ہلاک ہوئے، جب کہ 7 اکتوبر 2023 سے 30 ستمبر 2026 تک فضائی حملوں میں 254 فلسطینی ہلاک ہوئے۔ کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو ان کی قومیت، نسل، نسلی شناخت، جنس اور عمر کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ایران پر حملہ، نیتن یاہو اور فوجی سربراہ میں اختلافات پیدا ہو گئےغزہ کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام اور افواج نام نہاد جنگ بندی معاہدے کے بعد بھی نسل کشی پر مبنی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کا مقصد فلسطینی عوام کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنا ہے۔کمیشن کے چیئرمین سری نیواسن مرلی دھر نے کہا ’’مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کو دانستہ طور پر قتل کرنا اور زخمی کرنا، ان کے گھروں کو تباہ کرنا، اور اس کے ساتھ اسرائیل کی جانب سے مسلسل ذمہ داری قبول کرنے سے انکار، ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد فلسطینیوں کا خاتمہ اور انھیں بے دخل کرنا اور ان پر زندگی گزارنے کے ایسے حالات مسلط کرنا ہے جو ناقابلِ برداشت ہوں۔‘‘انھوں نے مزید کہا ’’دوسری جانب، غزہ میں اسرائیل کے علاقائی کنٹرول میں توسیع کے نتیجے میں ایسے فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں اور انھیں نقصان پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے جو زرد لکیر (یلو لائن) کے قریب پہنچتے ہیں یا اسے عبور کرتے ہیں۔‘‘رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے میں اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 سے فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کے مسلسل تشدد کے ذریعے شہریوں کے خلاف وسیع پیمانے پر اور منظم حملے کیے ہیں۔ اس عرصے کے دوران اسرائیلی حکام کا طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ ان کی نیت تھی کہ فوجی کارروائیاں اور آبادکاروں کا تشدد فلسطینیوں کے خلاف ایک مربوط حملے کا حصہ بنیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد، تولیدی تشدد، ریپ اور جنسی تشدد کی دیگر اقسام مغربی کنارے کی شہری آبادی کے خلاف وسیع تر حملے کا حصہ ہیں۔ جنسی تشدد کو فلسطینی عوام کو بے دخل کرنے، انھیں محکوم بنانے اور عدم استحکام سے دوچار کرنے کے ارادے سے استعمال کیا گیا ہے۔اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے میں بچوں کو بھی دانستہ طور پر قتل کیا اور انھیں شدید جسمانی و ذہنی نقصان پہنچایا، جیسا کہ غزہ میں کیا گیا۔ کمیشن کے مطابق فلسطینی بچوں کو ان کی عمر کی بنیاد پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔بار بار پیدا ہونے والی کشیدگی اور تنازع کے طول پکڑنے کی بنیادی وجوہ کی وسیع تر تحقیقات کے حصے کے طور پر رپورٹ میں اسرائیلی تشدد کے اہم محرکات بیان کیے گئے ہیں۔ کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل نے 1947-48 کی جنگ کے بعد سے تشدد کے ذریعے اپنے علاقائی کنٹرول کو وسعت دینے اور فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنوری 2025 کے بعد سے فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں مغربی کنارے میں 1967 کے بعد فلسطینیوں کی سب سے بڑی بے دخلی ہوئی، اور اگست 2026 تک 34 ہزار 176 فلسطینی بدستور بے گھر تھے۔مرلی دھر نے کہا ’’زیادہ سے زیادہ زمین پر قبضہ کرنا اور رقبے، خودمختاری اور قابلِ عمل حیثیت کے لحاظ سے فلسطینی آبادی کو کم سے کم رکھنا اسرائیل کی نوآبادیاتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اس کی جڑیں تاریخی طریقوں اور طرزِ عمل میں پیوست ہیں، جن کے نتیجے میں مہلک طاقت کا حد سے زیادہ اور امتیازی استعمال کیا گیا اور نسل در نسل فلسطینیوں کو بے گھر، زخمی اور قتل کیا جاتا رہا۔‘‘انھوں نے مزید کہا ’’فلسطینی ریاست کے قیام کو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کو عملی جامہ پہنانے کی کسی بھی قابلِ عمل کوشش کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔‘‘رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے بھی اختلافی خیالات کا اظہار کرنے والے فلسطینیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو قتل اور زخمی کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں شہری آزادیوں اور سماجی و سیاسی سرگرمیوں کے لیے دستیاب گنجائش مزید سکڑ گئی ہے۔مرلی دھر نے کہا ’’7 اکتوبر 2023 کے بعد غیر ضروری یا غیر متناسب طاقت کے استعمال میں اضافے کے باوجود فلسطینی اتھارٹی ہلاکتوں کے واقعات کی مؤثر اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرنے اور مؤثر ازالے کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔ اس ازالے میں متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کو مالی معاوضے کی فراہمی بھی شامل ہے۔‘‘کمیشن نے متعلقہ ریاستوں اور عالمی برادری کے لیے متعدد سفارشات پیش کی ہیں۔ اس کے مطابق اسرائیل کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر عمل کرنا چاہیے، فلسطینی علاقوں پر غیر قانونی قبضہ فوری طور پر ختم کرنا چاہیے اور تمام آبادکاروں اور بستیوں کو ہٹانا چاہیے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی املاک کی ضبطی اور ناجائز تخصیص کا سلسلہ ختم کر کے اس عمل کو واپس لینا چاہیے، نیز فلسطینی زمین کو فوجی مقاصد کے لیے مختص کرنے کا عمل روکنا چاہیے اور ضبط کی گئی تمام زمین اس کے فلسطینی مالکان کو واپس کرنی چاہیے۔کمیشن نے یہ سفارش بھی کی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی انسانی حقوق کے محافظوں کو نشانہ بنانا بند کرے، بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کرے اور فلسطینی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ناحق قتل یا زخمی ہونے والے متاثرین کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ فراہم کرے۔