نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو نئی دہلی میں منعقدہ 12ویں برکس پارلیمانی فورم میں شرکت کی اور پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس کے ’سمویدھان سدن‘ کے سنٹرل ہال میں غیر ملکی نمائندوں سے بات چیت کی۔ اس فورم میں برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے پارلیمانی رہنما اور دیگر اہم شخصیات شرکت کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد پارلیمانی تعاون کو مضبوط بنانا اور عوام پر مرکوز ترقی کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔اس پروگرام میں برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے پارلیمانی رہنماؤں اور ایوانوں کے سربراہان کے علاوہ مرکزی وزرا، راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش، ریاستی اسمبلیوں کے اسپیکر، اراکین پارلیمنٹ اور دیگر معزز شخصیات بھی شریک ہوئیں۔اس سے قبل لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے اجلاس کی صدارت کی اور برکس ممالک کے نمائندوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے شریک ممالک کے درمیان مکالمے، باہمی احترام اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔اپنے افتتاحی خطاب میں اوم برلا نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہندوستان میں برکس کے رکن ممالک کے پارلیمانی وفود کی موجودگی اور ان کا مشترکہ عزم اپنے آپ میں ایک خاص تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں برکس پارلیمانی تعاون کا انعقاد مکالمے اور باہمی احترام کے تئیں مشترکہ عزم اور جمہوری اقدار پر مشترکہ یقین کی عکاسی کرتا ہے۔لوک سبھا اسپیکر نے بتایا کہ برکس پارلیمانی فورم اس سال اپنی 20ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اس تنظیم کا دائرہ تیزی سے وسیع ہو رہا ہے اور عالمی حالات و بین الاقوامی تعلقات پر اس کے اثر انداز ہونے کی صلاحیت بھی بڑھ رہی ہے۔اوم برلا نے کہا کہ برکس ممالک دنیا کی تقریباً نصف آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کا جغرافیائی پھیلاؤ عالمی رقبے کے تقریباً ایک تہائی حصے تک ہے، جب کہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی تجارت میں بھی ان کی اہم حصہ داری ہے۔ انہوں نے اسے برکس ممالک کی اجتماعی طاقت اور عالمی ذمہ داری کا مظہر قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ برکس ممالک جغرافیائی، ثقافتی، لسانی اور سماجی اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن جمہوری اقدار اور انسانیت کے تئیں مشترکہ ذمہ داری انہیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔اوم برلا نے نئی دہلی میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کے دوران مشترکہ اعلامیے کو اتفاق رائے سے منظور کیے جانے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور اس کے لیے برکس کے تمام رکن ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانیں ممالک کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ اور اعتماد کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی کشیدگی کم کرنے اور عالمی چیلنجوں کا پُرامن حل تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔