’بینک کی لاپرواہی کے سبب دھوکہ دہی ہوئی تو متاثرہ شخص کو پورا معاوضہ دینا ہوگا‘، ڈیجیٹل اریسٹ پر سپریم کورٹ کا انتباہ

Wait 5 sec.

ملک بھر میں تیزی سے بڑھ رہے ڈیجیٹل اریسٹ اور سائبر دھوکہ دہی کے معاملات پر سپریم کورٹ نے سخت رخ اختیار کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ وہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے تجویز کردہ سائبر فراڈ مخالف ضوابط کو نوٹیفائی کرنے کی اجازت دینے سے قبل ان کا جائزہ لے گی۔ سپریم کورٹ نے واضح ہدایت دی ہے کہ ان ضوابط میں یہ التزام لازمی طور پر ہونا چاہیے کہ اگر کسی مالیاتی ادارے کی لاپرواہی کے سبب دھوکہ دہی ہوتی ہے تو وہ ادارہ متاثرہ شخص کے نقصان کی پوری بھرپائی کرے۔ عدالت نے کہا کہ کئی معاملات میں بینکوں کی غیرفعالیت اور ملازمین کے کردار کے سبب ٹھگ آسانی سے لوگوں کے کھاتوں سے رقم نکال لے جاتے ہیں۔News Alert! Banks must be made accountable to identify losses of victims of digital fraud, says SC.— Press Trust of India (@PTI_News) October 29, 2026سماعت کے دوران عدالت نے تبصرہ کیا کہ ڈیجیٹل اریسٹ کے معاملات میں بینکوں کی جوابدہی طے کرنا بے حد ضروری ہے۔ ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں متاثرہ شخص کے کھاتے سے نکالی گئی رقم کی بھرپائی براہ راست بینک کرے، تاکہ عام شہری کو معاوضے کے لیے در بدر نہ بھٹکنا پڑے۔ عدالت نے کہا کہ آر بی آئی کے مجوزہ ضوابط میں یہ لازمی کیا جانا چاہیے کہ اگر مالیاتی ادارے کی جانب سے ضروری جانچ پڑتال اور کے وائی سی جیسے طریقۂ کار میں لاپرواہی برتی گئی ہے، جس کے سبب ڈیجیٹل اریسٹ یا سائبر دھوکہ دہی ہوئی ہے، تو وہ مالیاتی ادارہ متاثرہ شخص کو کم از کم دھوکہ دہی میں گئی پوری رقم کا معاوضہ دے۔عدالت کی سختی کے پیش نظر مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ ڈیجیٹل اریسٹ کے ذریعے دھوکہ دہی کے معاملے میں جس بھی ملازم کی لاپرواہی سامنے آئے گی، اس کی ذاتی جوابدہی طے کی جائے گی اور اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور آر بی آئی مل کر ایک مضبوط نظام تیار کر رہے ہیں۔’ثبوت ملے تو ملزم کی جائیداد ضبط کرنے کا التزام ہو‘، ڈیجیٹل اریسٹ فراڈ پر بولے سی جے آئی سوریہ کانتسپریم کورٹ نے ایک اور اہم پہلو کی جانب توجہ دلائی۔ عدالت نے کہا کہ ڈیجیٹل اریسٹ کے تقریباً تمام واقعات میں ’واٹس ایپ‘ کے غلط استعمال کی بات سامنے آئی ہے۔ ٹھگ ’واٹس ایپ‘ کال اور ویڈیو کال کے ذریعے خود کو پولیس افسر، سی بی آئی یا ای ڈی کا افسر بتا کر لوگوں کو ڈراتے ہیں اور انہیں ڈیجیٹل طور پر گرفتار کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔