خواتین پہلوانوں کے الزامات کے درمیان برج بھوشن سنگھ کو بی جے پی کی ریاستی مجلس عاملہ میں جگہ، فیصلے پر اٹھے سوالات

Wait 5 sec.

لکھنؤ: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سابق رکن پارلیمنٹ اور ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے سابق صدر برج بھوشن شرن سنگھ کو اتر پردیش کی ریاستی مجلس عاملہ میں شامل کر لیا ہے۔ خواتین پہلوانوں کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات اور ان کی بریت کے خلاف دائر اپیل پر عدالتی کارروائی جاری رہنے کے درمیان پارٹی کے اس فیصلے نے سیاسی تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ اس تقرری کے بعد بی جے پی کے خواتین کے احترام اور تحفظ سے متعلق دعووں پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، بی جے پی کے ریاستی صدر پنکج چودھری نے 26 اکتوبر کو نئی ریاستی مجلس عاملہ تشکیل دی، جس میں برج بھوشن سنگھ کو پہلی مرتبہ جگہ دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پارٹی 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ 30 اور 31 اکتوبر کو لکھنؤ میں ہونے والی ریاستی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی شرکت بھی متوقع ہے۔برج بھوشن سنگھ کو اگست 2026 میں دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے 6 خواتین پہلوانوں کی شکایت سے متعلق جنسی ہراسانی کے معاملے میں بری کر دیا تھا۔ اس معاملے میں ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے سابق اسسٹنٹ سکریٹری ونود تومر کو بھی بری کیا گیا تھا۔ تاہم چار خواتین پہلوانوں نے 25 ستمبر کو اس فیصلے کے خلاف فوجداری اپیل دائر کرتے ہوئے نچلی عدالت کے فیصلے کو غلط قرار دیا۔ ان کا الزام ہے کہ عدالت نے شواہد کا انتخابی اور غلط انداز میں جائزہ لیا اور جنسی ہراسانی کے متاثرین کے رویے سے متعلق پرانے اور دقیانوسی تصورات کی بنیاد پر نتائج اخذ کیے۔28 اکتوبر کو خصوصی جج دگ ونئے سنگھ کی عدالت نے برج بھوشن سنگھ کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے آخری موقع دیتے ہوئے ایک ہفتے کی مہلت دی تھی۔ معاملے کی اگلی سماعت 20 نومبر کو مقرر ہے۔برج بھوشن سنگھ کو ریاستی مجلس عاملہ میں شامل کیے جانے پر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ-لیننسٹ) نے سخت تنقید کی ہے۔ پارٹی کے ریاستی سکریٹری سدھاکر یادو نے کہا کہ یہ فیصلہ خواتین پہلوانوں کی طویل جدوجہد کی توہین ہے اور اس سے انصاف کے لیے لڑنے والی خواتین کا حوصلہ کمزور ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس تقرری کو بی جے پی کی سیاسی ترجیحات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ خواتین کے انصاف کی لڑائی ابھی عدالت میں جاری ہے۔برج بھوشن سنگھ کے خلاف خواتین پہلوانوں کی تحریک 2023 میں قومی سطح پر موضوع بحث بنی تھی۔ ونیش پھوگاٹ، ساکشی ملک اور بجرنگ پونیا سمیت کئی پہلوانوں نے ان کے خلاف احتجاج کیا تھا اور جنسی ہراسانی کے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔اس تحریک کے بعد بی جے پی نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں برج بھوشن سنگھ کو قیصر گنج سے ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ ان کی جگہ ان کے بیٹے کرن بھوشن سنگھ کو امیدوار بنایا گیا، جنہوں نے کامیابی حاصل کی۔ اب ریاستی مجلس عاملہ میں برج بھوشن کی شمولیت کو پارٹی میں ان کے سیاسی اثر و رسوخ کی بحالی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔چھ مرتبہ رکن پارلیمنٹ رہ چکے برج بھوشن سنگھ گونڈہ، بلرام پور اور قیصر گنج سمیت مشرقی اتر پردیش کے کئی علاقوں میں سیاسی اثر رکھتے ہیں۔ بی جے پی کے لیے ان کی اہمیت کو اسی علاقائی اثر و رسوخ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔دوسری جانب سی پی آئی (ایم ایل) نے حالیہ قانون ساز کونسل انتخابات میں بی جے پی کو ملنے والے جھٹکوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ 11 نشستوں کے انتخاب میں بی جے پی نے چھ اور سماجوادی پارٹی نے پانچ نشستیں حاصل کیں۔ وارانسی کی دونوں نشستوں پر بی جے پی کو شکست ہوئی، جبکہ لکھنؤ کی گریجویٹ نشست بھی سماجوادی پارٹی کے حصے میں گئی۔برج بھوشن سنگھ کی بریت کے بعد انہیں تنظیمی عہدہ دینے پر کوئی قانونی پابندی نہیں ہے، لیکن خواتین پہلوانوں کی اپیل زیر سماعت ہونے کے دوران یہ فیصلہ سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ خواتین کے احترام کے دعووں اور ان کے انصاف کے لیے جاری جدوجہد کے درمیان بی جے پی کس طرح توازن قائم کرتی ہے۔