بھارت میں آنکھوں کی ادویات خطرناک قرار

Wait 5 sec.

حیدرآباد ( 30 اکتوبر 2026 ): بھارت کی معروف دوا ساز کمپنی کی آنکھوں کی ادویات سے متعلق خطرناک انکشاف سامنے آیا ہے، لاکھوں آئی ڈراپس کی بوتلیں مارکیٹ سے واپس منگوالی گئیں۔بھارتی ادویات کے ریگولیٹرز نے معروف دوا ساز کمپنی سن فارماسیوٹیکل انڈسٹریز کو آسام میں واقع اس کے پلانٹ سے تیار ہونے والی آنکھوں کی ادویات کی تیاری، فروخت اور تقسیم روکنے کا حکم دے دیا۔رائٹرز کے جائزہ لیے گئے سرکاری دستاویزات کے مطابق بھارتی سینٹرل ڈرگز اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن اور آسام کے ڈرگز کنٹرولر کے دفتر نے 20 اگست کو یہ حکم جاری کیا تھا۔اس سے قبل وفاقی اور ریاستی حکام نے مشترکہ معائنے کے دوران پلانٹ کے کوالٹی مینجمنٹ سسٹم میں ایسی خامیوں کی نشاندہی کی تھی جو ادویات کے معیار اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔یہ کارروائی آنکھوں کے امراض کے علاج کے لیے مختلف اقسام کے آئی ڈراپس اور جیل تیار کرنے والی معروف دوا ساز کمپنی سن فارما کی جانب سے جولائی میں آنکھوں کی تقریباً 11 اقسام کی ادویات رضاکارانہ طور پر واپس منگوانے کے بعد سامنے آئی، ریگولیٹرز نے کمپنی سے آنکھوں کی ادویات کے 332 بیچز کی واپسی سے متعلق مزید معلومات بھی طلب کی ہیں۔کمپنی نے ایک اندرونی نوٹس میں کہا تھا کہ مذکورہ مصنوعات کو ’احتیاطی اقدام‘ کے طور پر واپس منگوایا جارہا ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ واپس منگوائی گئی تمام ادویات آلودہ تھیں یا نہیں۔ سن فارما نے اس وقت عوامی سطح پر واپسی کی تفصیلات بھی جاری نہیں کی تھیں۔رائٹرز کے مطابق متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے حکم کے تحت آسام کے پلانٹ سے آنکھوں کی ادویات کی پیداوار اس وقت تک جاری نہیں رکھی جاسکے گی جب تک کمپنی تسلی بخش تعمیلی رپورٹ جمع نہیں کراتی۔معاملے سے واقف ایک بھارتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سن فارما نے ریگولیٹری حکم کے جواب میں تعمیلی رپورٹ جمع کرا دی ہے، جس کا حکام جائزہ لے رہے ہیں۔واپس منگوائی جانے والی مصنوعات میں Lotepred 1% 5ml eye drops، Nepalact OD، Nepalact-Z، Brinzotim 5ml eye drops اور Depopred 2ml شامل ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ ادویات آنکھوں کی سوزش، انفیکشن اور بعض دائمی امراض کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مصنوعات کی پیکیجنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ واپس منگوائی گئی زیادہ تر ادویات آسام میں واقع پلانٹ میں تیار کی گئی تھیں۔ تاہم یہ آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی کہ ریگولیٹرز کی جانب سے نشاندہی کیے گئے 332 بیچز صرف ان 11 برانڈز تک محدود تھے یا ان میں مزید مصنوعات بھی شامل تھیں۔صنعتی ماہرین کے مطابق متاثرہ بیچز کی تعداد کو دیکھتے ہوئے ممکنہ طور پر لاکھوں آئی ڈراپس کی بوتلیں اس کارروائی سے متاثر ہوسکتی ہیں، تاہم ماہرین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ اندازہ پیش کیا۔حالیہ برسوں میں بھارت میں تیار کردہ بعض کھانسی کے شربت بچوں کی اموات سے بھی منسلک کیے گئے تھے، جبکہ گیمبیا اور ازبکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی بھارتی ادویات کے معیار پر سوالات اٹھے۔