لندن: برطانیہ کے دفتر خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ (بشمول ترکی اور مصر) کے لیے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے۔دفترِ خارجہ کی تازہ ترین ہدایات میں ’’علاقائی کشیدگی‘‘ سے خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال بدستور انتہائی غیر یقینی ہے اور اچانک کشیدگی میں اضافے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔‘‘’’ایران نے امریکا اور اسرائیل سے وابستہ مقامات کو نشانہ بنانے کے ارادے کا اظہار کیا ہے، ان مقامات میں تنظیمیں، کاروبار، تنصیبات اور ادارے شامل ہیں، تاہم یہ فہرست انہی تک محدود نہیں۔‘‘’’خطے بھر میں ایران اور دیگر فریقوں کی جانب سے شہری تنصیبات اور امریکی فوجی بنیادی ڈھانچے پر حملے اور ان کے جواب میں جوابی کارروائیاں ہو چکی ہیں۔‘‘برطانوی دفترِ خارجہ نے مزید ہدایت کی ہے کہ ’’مشرقِ وسطیٰ میں موجود یا وہاں سے گزرنے کا ارادہ رکھنے والے برطانوی شہری ممکنہ طور پر پروازیں منسوخ ہونے، فضائی حدود بند کیے جانے اور سفر میں رکاوٹوں کے لیے تیار رہیں۔‘‘75 برطانوی ارکان پارلیمنٹ کا اسرائیلی حکام پر پابندیوں کا مطالبہواضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ طور پر شدید فوجی کارروائیوں میں اضافے کا عندیہ دیے جانے کے بعد، بہت سے برطانوی سیاح بے یقینی کا شکار ہیں کہ آیا دبئی اور عمان جیسے مشرقِ وسطیٰ کے مقبول سیاحتی مقامات کا سفر محفوظ ہے یا نہیں۔برطانوی اخبار دی مرر کے مطابق، خلیجی خطے کے کئی ممالک کو بتایا گیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران میں مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔