میں نے جیفری ایپسٹین کو کلب سے باہر پھینک دیا تھا: ٹرمپ

Wait 5 sec.

واشنگٹن(29 اکتوبر 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میں نے جیفری ایپسٹین کو کلب سے باہر پھینک دیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست اوہائیو کے شہر چِلی کوتھی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران جنسی جرائم میں ملوث رہنے والے امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متعلق اہم بیان دیا ہے۔جلسے کے دوران جب ایک مظاہرین نے ایپسٹین کے حوالے سے نعرے بازی کی، تو ٹرمپ نے اس معاملے پر کھل کر گفتگو کی۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے تقریباً 20 سال قبل جیفری ایپسٹین کو اپنے کلب (مار-اے-لاگو) سے باہر نکال دیا تھا کیونکہ وہ ایپسٹین کو ایک عجیب اور ناقابلِ اعتبار شخص سمجھتے تھے۔انہوں نے اس قدم کو اپنے لیے ایک بہترین فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہت اچھا کام کیا تھا اور اس کے بعد ایپسٹین ان کے پاس کبھی نہیں آیا۔ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ جیفری ایپسٹین کا اٹھنا بیٹھنا ڈیموکریٹس کے ساتھ تھا۔جلسے کے دوران ٹرمپ نے احتجاج کرنے والے افراد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں "بیمار اور کمزور” بھی قرار دیا۔واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے سنگین الزامات کا سامنا کر رہا تھا، جو 2019 میں مقدمے کی کارروائی کے دوران وفاقی حراست میں مردہ پایا گیا تھا اور حکام نے اس کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا۔ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماضی میں دونوں کے درمیان تعلقات پر اکثر عوامی سطح پر بحث کی جاتی رہی ہے، تاہم ٹرمپ پر کبھی بھی ایپسٹین کے مجرمانہ فعل میں ملوث ہونے کا کوئی باضابطہ الزام ثابت نہیں ہوا۔