75 برطانوی ارکان پارلیمنٹ کا اسرائیلی حکام پر پابندیوں کا مطالبہ

Wait 5 sec.

لندن: برطانوی پارلیمنٹ کے 75 ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں داخل ہونے والی انسانی امداد کی راہ میں اسرائیل کی رکاوٹوں کے باعث اس پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں۔وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے نام خط میں دارالعوام (ہاؤس آف کامنز) اور دارالامرا (ہاؤس آف لارڈز) کے ارکان نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پابندیاں عائد کرنے کے لیے حاصل نئے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان افراد کو نشانہ بنائے جو فلسطینیوں کے لیے انتہائی ضروری امداد کی ترسیل محدود کرنے کے ذمہ دار ہیں۔یہ خط کونسل فار عرب برٹش اَنڈرسٹینڈنگ اور برطانیہ فلسطین پروجیکٹ کی رابطہ کاری میں تیار کیا گیا ہے، جس پر دستخط کرنے والے سیاست دانوں میں لیبر پارٹی کے سابق سربراہ جیرمی کوربن، سابق شیڈو چانسلر جان میکڈونل اور اسکاٹش نیشنل پارٹی کی رکنِ پارلیمان لارا برڈ شامل ہیں۔ارکانِ پارلیمان نے عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون سے متعلق پابندیوں کے ضوابط 2026 متعارف کرانے کا خیر مقدم کیا، تاہم خبردار کیا کہ غزہ میں سردیوں کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہونے سے پہلے حکومت کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔برطانیہ نے 3 جوہری آبدوزیں بیک وقت سمندر میں اُتار دیںخط میں لکھا گیا ’’اب یہ اختیارات موجود ہیں۔ ہم آپ پر زور دیتے ہیں کہ انھیں فوری طور پر استعمال کریں، اور اس کا آغاز ان افراد کے خلاف کارروائی سے کریں جو غزہ میں فلسطینیوں کے لیے زندگی بچانے والی امداد کی فراہمی سے انکار اور اس میں رکاوٹ ڈالنے کے ذمہ دار ہیں۔‘‘خط میں اسرائیلی حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ من مانے طریقے سے شہریوں کو خوراک، ادویات اور ایندھن کی فراہمی روک رہی ہے۔ اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو دوبارہ بھوک سے دوچار کیے جانے کا خدشہ بدستور ’’حقیقی‘‘ ہے۔خط میں بین الاقوامی انسانی امدادی تنظیموں، بشمول ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز، آکسفیم اور ناروے کی پناہ گزین کونسل سمیت 37 امدادی تنظیموں پر عائد پابندیوں کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ خط پر دستخط کرنے والے ارکان نے مطالبہ کیا کہ چند ہفتوں کے اندر پہلی پابندیوں کا اعلان کیا جائے اور امداد کی فراہمی محدود کرنے کے ذمہ دار اسرائیلی عہدیداروں کو ان پابندیوں کا ہدف بنایا جائے۔خط پر سابق لیبر پارٹی رہنما جیریمی کوربن، ڈیان ایبٹ، لارڈ شفق محمد، یاسمین قریشی، طاہر علی، افسانہ بیگم، عمران حسین، ایوب خان، سابق وزیر جان میکڈونل، لیلیٰ موران اور نادیہ وٹوم سمیت دیگر ارکان کے نام شامل ہیں۔ یہ خط برطانوی رکن پارلیمنٹ الیسٹر کارمائیکل کے لیٹر ہیڈ پر وزیر خارجہ کو ارسال کیا گیا ہے۔