واشنگٹن: سابق امریکی صدر بارک اوباما نے ٹرمپ کو اپنے گہرے طنز کے نشانے پر رکھ دیا ہے، انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کو ’’چیز کیک فیکٹری‘‘ بنا دیا ہے۔جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں ایک انتخابی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے بارک اوباما نے کہا ’’میں نے سنا ہے کہ میرے اس مذاق سے صدر صاحب خوش نہیں ہوئے کہ انھوں نے وائٹ ہاؤس کی حالت ایسی بنا دی ہے جیسے صدام حسین نے ’چیز کیک فیکٹری‘ کھول لی ہو۔‘‘ واضح رہے کہ اس سے قبل 25 اکتوبر کو ڈیٹرائٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی ریلی سے بھی خطاب میں انھوں نے یہ طنز کیا تھا۔عراق کے سابق صدر صدام حسین اپنی شاہانہ زندگی، وسیع محلات اور سونے کی آرائش کے لیے مشہور تھے۔ ان کے دور میں تعمیر ہونے والے محلات میں شان و شوکت اور سونے کی سجاوٹ نمایاں تھی۔ جب کہ چیز کی فیکٹری امریکا میں ریستورانوں کی ایک معروف چَین ہے۔ اس کے بعض ریستورانوں کی آرائش میں بڑے فانوس، آرائشی ستون، نقش و نگار اور نسبتاً پُرتعیش اندرونی سجاوٹ شامل ہوتی ہے۔اوباما نے ان دونوں حوالوں کو ملا کر طنز کیا کہ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اتنی زیادہ سنہری آرائش کروا دی ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے صدام حسین نے وہاں چیز کیک فیکٹری کھول لی ہو۔اوباما نے کہا ’’کیا واقعی کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ شخص اپنا اتنا وقت ان مسائل پر توجہ دینے میں صرف کر رہا ہے جو آپ کے لیے اہم ہیں؟ کیوں کہ اس کی ساری توجہ تو گھر کی تزئین و آرائش پر مرکوز ہے۔ اسے ایچ جی ٹی وی پر اپنا ایک شو شروع کر دینا چاہیے۔ یہ شخص ایک ایسا بال روم تعمیر کر رہا ہے جو وائٹ ہاؤس سے بھی بڑا ہے۔ اس نے روز گارڈن پر پختہ فرش بچھا دیا ہے، جنوبی لان میں ہیلی کاپٹر کے لیے پیڈ بنا دیا ہے، اور ہر طرف سونا ہی سونا ہے۔ اتنا زیادہ سونا!‘‘برطانیہ نے مشرق وسطیٰ کے سفر کے لیے نئی ہدایات جاری کر دیںانھوں نے کہا ’’امریکا کے صدر اوول آفس میں آتش دان کے اوپر بنے شیلف پر سونے کے تمغہ نما آرائشی چیزیں سپر گلو سے چپکانے میں مصروف ہے۔ ہم ایک جنگ لڑ رہے ہیں اور بے قابو ہوتی قیمتوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ وہ واقعی آرٹ اور دست کاری کے کاموں میں مصروف ہے۔‘‘اوباما نے مزید کہا ’’اور دیکھیے، سب سے پہلے تو میں یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں۔ میں دو بیٹیوں کا باپ ہوں۔ اُن کے بچپن کے دنوں میں ایسا ممکن نہیں تھا کہ میں چیز کیک فیکٹری نہ جاؤں؟ میں تو چک ای چیز، کیلیفورنیا پیزا کچن اور چیز کیک فیکٹری میں ہی پڑا رہتا تھا۔ تقریباً ایک دہائی تک یہی میرے پسندیدہ مقامات تھے۔‘‘سابق صدر نے کہا ’’لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ میری گزشتہ تقریر پر ٹرمپ انتظامیہ نے کس انداز میں ردعمل دیا ہے۔ انھوں نے اس بات کی تردید نہیں کی کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کی براہِ راست ذمہ دار وہ خود ہے۔ انھوں نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ انھوں نے یہ بھی نہیں جھٹلایا کہ ٹیرف خاندانوں کے اخراجات بڑھانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔‘‘انھوں نے کہا ’’میں نے حقائق کی بنیاد پر اس انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ بدعنوانی کی ایسی غیر معمولی سطح میں ملوث ہے جس کی پہلے مثال نہیں ملتی۔ لیکن اس پر بھی انھوں نے کچھ نہیں کہا۔‘‘اوباما نے کہا ’’صدر ٹرمپ کو صدام حسین سے تشبیہ دینے پر بھی غصہ نہیں آیا۔ انھیں اس حصے سے کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ لیکن چیز کیک فیکٹری والی بات پر وہ بہت برہم ہوئے۔ انھیں اس پر سخت اعتراض تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں وائٹ ہاؤس میں کام کرنے والے ہنرمند کاریگروں کے کام کو نہیں سمجھتا۔‘‘سابق صدر نے کہا ’’وہ اس مذاق کے جواب میں پوری حکومتی مشینری کو حرکت میں لے آئے۔ مہنگائی کے خلاف نہیں، بلکہ اس مذاق کے خلاف۔ وائٹ ہاؤس نے وزیرِ خزانہ کو بھی فون کیا۔ یہ وہ شخص ہے جس کے ذمے معیشت ہے، جس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سوچے جن سے آپ کی زندگی زیادہ قابلِ برداشت ہو، جو یہ طے کرے کہ مہنگائی کیسے کم کی جائے اور شرحِ سود کیسے گھٹائی جائے۔‘‘’’انھوں نے وزیرِ خزانہ سے کہا کہ وہ چیز کیک فیکٹری کے سامنے پریس کانفرنس کریں۔‘‘