شیئر بازار میں بدھ کے روز جیو پلیٹ فارمز کے آئی پی او کی لسٹنگ نے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی۔ تقریباً 30200 کروڑ روپے کے اس بڑے ایشو کے شیئر 1358 روپے پر لسٹ ہوئے، جو 1119 روپے کی ایشو قیمت سے 21.35 فیصد زیادہ ہے۔ اس مضبوط شروعات کے ساتھ ہی آئی پی او میں شیئر حاصل کرنے والے سرمایہ کاروں کو لسٹنگ کے وقت اچھا منافع ملا۔ حالانکہ آگے شیئر کی قیمت میں کیا اتار چڑھاؤ آئے گا، اس پر سرمایہ کاروں کی نظر برقرار ہے۔ جیو پلیٹ فارمز کے آئی پی او کا اپر پرائس بینڈ 1119 روپے فی شیئر تھا، جب کہ بازار میں اس کی شروعات 1358 روپے پر ہوئی۔ اس طرح سرمایہ کاروں کو ہر شیئر پر 239 روپے کا لسٹنگ منافع ملا۔ آئی پی او کے ایک لاٹ میں 12 شیئر تھے۔ اس حساب سے ایک لاٹ حاصل کرنے والے سرمایہ کاروں کو مجموعی طور پر2868 روپے کا لسٹنگ منافع ہوا۔#BREAKING | Jio makes blockbuster market debut!!!!Jio Platforms opens at Rs 1,358 on the NSE, higher by 21.36% over issue price.Investors allotted the minimum lot of 23 shares under the shareholder category would have made a listing gain of Rs 5,497, based on the opening… pic.twitter.com/X84OdMag1t— Moneycontrol (@moneycontrolcom) October 28, 2026لسٹنگ سے قبل گرے مارکیٹ میں آئی پی او کا پریمیم تقریباً 247 روپے بتایا جا رہا تھا۔ اس کی بنیاد پر شیئر کے تقریباً 1366 روپے پر لسٹ ہونے کا اندازہ لگایا جا رہا تھا۔ اصل لسٹنگ اس اندازے کے قریب رہی۔ شاندار لسٹنگ کے بعد جیو پلیٹ فارمز کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن تقریباً 12.61 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس نے بھارتی ایئرٹیل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ریلائنس انڈسٹریز کے بعد ہندوستان کی دوسری سب سے زیادہ قدر والی کمپنی کا مقام حاصل کر لیا۔ اس سے قبل منگل کے روز این ایس ای پر بھارتی ایئرٹیل کا شیئر 1978.80 روپے پر بند ہوا تھا اور کمپنی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن تقریباً 12.35 لاکھ کروڑ روپے تھی۔جیو پلیٹ فارمز کا آئی پی او 21 سے 23 اکتوبر کے درمیان سرمایہ کاری کے لیے کھلا تھا۔ اس میں شیئرز کی قیمت کا بینڈ 1065 سے 1119 روپے مقرر کیا گیا تھا۔ کمپنی نے اس ایشو کے تحت 27 کروڑ نئے ایکویٹی شیئرز جاری کیے اور اس میں آفر فار سیل (او ایف ایس) شامل نہیں تھا۔ آئی پی او کو مجموعی طور پر 22.19 گنا سبسکرپشن ملا۔ اس کے لیے تقریباً1.4 کروڑ درخواستیں موصول ہوئیں اور 4.9 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی بولیاں لگائی گئیں۔ ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے زمرے میں بھی مضبوط طلب دیکھنے کو ملی، جہاں سبسکرپشن 70.55 گنا سے زیادہ رہا۔شاندار لسٹنگ کے بعد سرمایہ کاروں کے سامنے سب سے بڑا سوال منافع وصول کرنے یا شیئرز کو طویل مدت تک اپنے پاس رکھنے کا ہے۔ نیری وینٹس ریسرچ کے بانی ورون این جوشی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ موجودہ لسٹنگ سطح پر سرمایہ کار منافع وصول کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق شیئر کی قدر مناسب سطح تک پہنچ چکی ہے اور قریبی مدت میں بڑی تیزی کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔