مظفر نگر : فیکٹری میں قید دو سال سے جبری مشقت کرنے والے 12 مزدوروں کو بازیاب کرالیا گیا، میڈیا سے گفتگو میں متاثرین نے مظالم کی روح فرسا داستان سنائی۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ریاست اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر میں ایک فیکٹری سے بازیاب کرائے گئے 12مزدوروں نے میڈیا کے سامنے دو سال سے زائد عرصے تک جبری مشقت، بھوک، قید اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے لرزہ خیز واقعات بیان کیے۔رپورٹ کے مطابق 22 جون 2026 کو مقامی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے عملے نے ایک خفیہ اطلاع پر گاؤں میں واقع ایک مینوفیکچرنگ فیکٹری پر چھاپہ مار کر 12 مزدوروں کو بازیاب کرایا۔بازیاب ہونے والے مزدوروں نے اپنے بیانات میں الزام عائد کیا کہ انہیں ملازمت کا جھانسہ دے کر فیکٹری لایا گیا، جہاں انہیں قید کرکے جبری مشقت کرائی جاتی اور فرار ہونے کی کوششوں کو روکنے کے لیے سخت پہرہ رکھا جاتا تھا۔مزدوروں کے مطابق فیکٹری میں خونخوار کتے بھی ہماری نگرانی کرتے تھے۔ ایک مزدور نے بتایا کہ کھانا مانگنے یا کام سے انکار کرنے پر ان پر بہیمانہ تشدد کیا جاتا تھا، اس کےعلاوہ رات کو سو جانے کے بعد بھی بیلٹ سے تشدد کیا جاتا تھا۔رپورٹ کے مطابق مزدوروں کے جسموں پر تشدد کے نشانات موجود تھے جبکہ کئی افراد بظاہر غذائی قلت اور طویل قید کے باعث شدید کمزور اور ذہنی طور پر متاثر دکھائی دیے۔کارروائی کے بعد پولیس نے دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ فیکٹری کا مالک تاحال مفرور بتایا گیا ہے، مزید تحقیقات جاری ہیں۔