بہار کے موکاما سے رکن اسمبلی اننت سنگھ کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے جنتا دل یو (جے ڈی یو) سے نکالے گئے رکن اسمبلی اننت سنگھ کو یکم دسمبر تک خودسپردگی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ معاملہ موکاما میں دلارچند یادو قتل معاملہ سے متعلق ہے۔ گزشتہ ہفتہ بہار حکومت نے سپریم کورٹ میں جوابی حلف نامہ داخل کر کے بتایا تھا کہ دلارچند قتل معاملہ میں اننت سنگھ اور دیگر ملزمین پر عائد الزامات درست ہیں۔یہ حکم دلارچند یادو کے پوتے نیرج کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کے دوران آیا۔ عرضی میں پٹنہ ہائی کورٹ کی جانب سے اننت سنگھ کو دی گئی ضمانت کو چیلنج کرتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بہار حکومت نے بھی اپنے جوابی حلف نامہ میں اس مطالبہ کی حمایت کی تھی۔ دلارچند یادو کا قتل 30 اکتوبر 2025 کو بہار اسمبلی انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران ہوا تھا۔سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران واضح تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ قتل کے معاملہ کو محض سیاسی تنازعہ کے طور پر دیکھنا غلط ہے۔ عدالت نے پٹنہ ہائی کورٹ کے ضمانت کے حکم پر روک لگاتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ابھی تحقیقات جاری ہیں اور مقدمے کی سماعت کے دوران گواہوں کے بیانات قلم بند کیے جائیں گے۔ اننت سنگھ کو خودسپردگی کرنی ہی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے پولیس کو 4 ماہ کے اندر معاملے کی تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اننت سنگھ کی جانب سے بیٹی کی شادی کا حوالہ دیتے ہوئے فوری طور پر خودسپردگی نہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے انھیں یکم دسمبر تک خودسپردگی کرنے کا حکم دیا۔قابل ذکر ہے کہ دلارچند یادو کا قتل اس وقت ہوا تھا جب اننت سنگھ کے قافلے کا ان سے آمنا سامنا ہو گیا تھا۔ اننت سنگھ جے ڈی یو کی ٹکٹ پر موکاما سے انتخاب لڑ رہے تھے، جبکہ دلارچند یادو جن سوراج پارٹی کے امیدوار کی حمایت کر رہے تھے۔ اس دوران موقع پر دونوں گروپوں کے کارکنوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہوئی، جس میں دلارچند کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد اننت سنگھ سمیت کئی لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ابتدائی تحقیقات میں یہ بات کہی گئی تھی کہ دلارچند یادو کی موت گولی لگنے سے ہوئی ہے، لیکن بعد میں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ان کی موت گاڑی کی ٹکر یا ممکنہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد مارچ 2026 میں اننت سنگھ کو پٹنہ ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی تھی۔بہار حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ایس ڈی پی او اور ایس پی کی سطح پر نگرانی کے بعد جنوری 2026 میں اننت سنگھ، منی کانت ٹھاکر اور رنجیت رام کے خلاف چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ حلف نامہ میں اننت سنگھ کے خلاف قتل، قتل کی کوشش، اغوا، جبراً وصولی اور آرمس ایکٹ سمیت مجموعی طور پر 62 مجرمانہ معاملات کا ذکر کیا گیا تھا۔