بی جے پی کو بڑی مشکل درپیش، اویسی نے اہم فیصلہ کرلیا

Wait 5 sec.

مظفر نگر : آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور رکن بھارتی پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اترپردیش میں مودی سرکار (بی جے پی) کو دوبارہ حکومت بنانے سے روکنے کے لیے دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ہاتھ ملانے کو تیار ہے۔گزشتہ روز ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے کہا کہ مجلس پوری کوشش کرے گی کہ اترپردیش میں بی جے پی کی حکومت قائم نہ ہوسکے۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت یوگی آدتیہ ناتھ کو تیسری مرتبہ ریاست کا وزیر اعلیٰ بنتے نہیں دیکھنا چاہتی۔اویسی کا کہنا تھا کہ اگر دیگر اپوزیشن جماعتوں کا بھی یہی مقصد ہے تو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اقلیتوں اور معاشرے کے دیگر پسماندہ طبقات کے مسائل مؤثر انداز میں اجاگر کرنے میں ناکام رہی ہیں۔مجلس کے سربراہ نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کی زیرقیادت حکومت کے دور میں ریاست میں متعدد مساجد منہدم کی گئیں اور مبینہ فرضی پولیس مقابلوں کا سلسلہ جاری رہا، لیکن اپوزیشن جماعتوں نے ان معاملات پر مؤثر آواز نہیں اٹھائی۔انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر وہ واقعی بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکنا چاہتی ہیں تو انہیں عوامی مسائل اور اقلیتوں سمیت پسماندہ طبقات سے متعلق معاملات پر واضح مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔اویسی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اترپردیش میں آئندہ انتخابی سیاست کے تناظر میں مختلف جماعتوں کے درمیان ممکنہ سیاسی اتحاد اور انتخابی حکمت عملی پر بحث جاری ہے۔بی جے پی رہنما کو دیہاتیوں نے لاٹھیوں سے مار مار کر ہلاک کر دیا