ملازمت کے لیے انٹرویو دینے والے امیدوار نے انوکھی فرمائش کر دی!

Wait 5 sec.

(2 نومبر 2026): ایک نجی کمپنی میں ملازمت کے لیے انٹرویو دینے والے امیدوار نے انوکھی فرمائش کر ڈالی۔دنیا بھر میں ملازمت کے حصول کے لیے انٹرویو دینے والے افراد ملازمت کے حصول کے لیے اپنی قابلیت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایک نوجوان نے انٹرویو لینے والے پینل سے انوکھا مطالبہ کر کے انہیں حیران کر دیا۔نوکری کے لیے دیا جانے والے اس دلچسپ انٹرویو کا احوال سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہے ہے جس پر صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں جب کہ کچھ صارفین امیدوار کی جرات کو سراہ رہے ہیں۔یہ انٹرویو ایک سافٹ ویئر ڈیولپر کی ملازمت کے لیے کیا گیا تھا جس میں شریک ایک امیدوار نے کوڈنگ انٹرویو کے دوران چیٹ جی پی ٹی سمیت دیگر اے آئی ٹولز استعمال کرنے کی اجازت طلب کر لی۔اس مطالبے کے حق میں امیدوار نے اپنی منطق پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب جدید دور میں سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے لیے مصنوعی ذہانت کے ٹولز دستیاب ہیں اور وہ چند سیکنڈ میں کوڈ تیار کر سکتے ہیں تو پھر کسی مسئلے کو خود حل کرنے میں 45 منٹ کیوں ضائع کیے جائیں؟غیر ملکی میڈیا کے مطابق امیدوار نے سافٹ ویئر ڈیولپر کی ملازمت کے لیے انٹرویو دیتے ہوئے کوڈنگ اسیسمنٹ (Coding Assessment) کے دوران چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ (Claude) یا کرسر (Cursor) جیسے مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرنے کی اجازت طلب کی۔جب انٹرویو لینے والے نے وضاحت کی کہ کوڈنگ راؤنڈ کا مقصد امیدوار کی مسئلے کو سمجھنے اور اسے خود حل کرنے کی صلاحیت جانچنا ہے تو امیدوار نے اس دلیل سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ حقیقی دفتری ماحول میں ڈیولپرز پہلے ہی اے آئی ٹولز کی مدد سے کوڈنگ کرتے ہیں، اس لیے انٹرویو میں بھی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی نہیں ہونی چاہیے۔امیدوار نے انٹرویو لینے والے کی جانب سے پوچھے گئے دیگر سوالات کا بھی جواب دینے کے بجائے اے آئی ٹولز استعمال کرنے کا مطالبہ کیا۔اس انٹرویو کے بعد کمپنی کی ریکروٹمنٹ ٹیم نے بذریعہ ای میل مذکورہ امیدوار کو ملازمت دینے سے متعذرت کی اور ساتھ ہی مشورہ دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیولپمنٹ کے بارے میں سیکھنے کے ساتھ اپنی بنیادی پروگرامنگ اور مسئلے حل کرنے کی صلاحیتوں کو بھی مضبوط کرے۔