واشنگٹن امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے تہلکہ خیز دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مڈٹرم الیکشن کے بعد امریکا ایران پر ایٹمی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک سنسنی خیز پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ وسط مدتی (مڈٹرم) انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے شدید دباؤ پر ایران کیخلاف جوہری حملے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ٹکر کارلسن کا کہنا تھا کہ ایران کے وسطی علاقے میں واقع پِک ایکس ماؤنٹین ممکنہ ہدف بن سکتا ہے، جہاں ایران کی حساس ترین جوہری تنصیبات پہاڑ کے اندر گہری سرنگوں میں قائم ہیں۔کارلسن نے انکشاف کیا کہ یہ سرنگیں پہاڑ کے اندر تقریباً 300 فٹ گہرائی میں ہیں اور روایتی امریکی ہتھیار انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اسی لیے جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔FOLLOW US ON ARY TUBEان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور سینٹ کام کے سربراہ بریڈ کوپر سمیت امریکی انتظامیہ میں اپنے قریبی اتحادیوں پر بھی دباؤ بڑھا رہے ہیں تاکہ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کی جائیں، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف بھی نیتن یاہو کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں۔کارلسن نے خبردار کیا کہ ایران پر جوہری حملے کی صورت میں خلیجی خطے میں تابکاری پھیل سکتی ہے، جس سے کروڑوں افراد کی آبی ضروریات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایسے حملے کے بعد روس یوکرین کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا جواز تلاش کر سکتا ہے، جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی جوہری تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔امریکی صحافی نے مزید کہنا کہ صدر ٹرمپ سات نومبر تک اس حوالے سے فیصلہ کر سکتے ہیں، تاہم نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاہدے کے حامی ہیں۔دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ایران پر جوہری حملے کی تیاری یا اس حوالے سے کسی حتمی فیصلے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ امریکی صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا امکان موجود ہے۔