ممبئی: شیوسینا (یو بی ٹی) نے سی این جی اور کمرشیل ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عوام کے لیے ’ظالمانہ دیوالی تحفہ‘ قرار دیا ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ مہاراشٹر پہلے ہی خشک سالی اور بے تحاشہ مہنگائی کی مار جھیل رہا ہے، ایسے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ عام لوگوں کی مشکلات مزید بڑھا دے گا۔ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار ’سامنا‘ کے اداریے میں کہا کہ ریاست کے کسانوں کے کھیتوں میں فصلیں نہیں ہیں اور عام لوگوں کی جیبیں خالی ہو چکی ہیں۔ لوگ اپنی معمولی بچت اس امید میں محفوظ رکھے ہوئے تھے کہ دیوالی پر اپنے بچوں کے لیے کچھ خوشیاں خرید سکیں گے، لیکن حکومت نے سی این جی اور کمرشیل ایل پی جی کی قیمتیں بڑھا کر ان کی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا ہے۔شیوسینا (یو بی ٹی) کے مطابق ممبئی میٹروپولیٹن ریجن (ایم ایم آر) میں سی این جی کی قیمت میں ایک روپے فی کلو کا اضافہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران یہ چھٹی مرتبہ ہے جب سی این جی مہنگی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں بھی 10 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔پارٹی نے گھریلو گیس سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے سے متعلق حکومت کے موقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اداریے میں کہا گیا کہ کمرشیل ایل پی جی مہنگی ہونے کا براہ راست اثر ہوٹلوں، ریستورانوں اور باہر کھانا کھانے کے اخراجات پر پڑتا ہے۔ اس سے دیوالی کے موقع پر بازار سے خریدی جانے والی مٹھائیوں اور نمکین اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔’ووٹ چوری سچائی ہے، کمر توڑ مہنگائی ہے‘، کانگریس نے مودی حکومت کو 2 محاذ پر ایک ساتھ بنایا نشانہاداریے میں مئی کے مہینے میں کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت میں ایک ہزار روپے کے بھاری اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کے بعد کی جانے والی معمولی کمی محض دکھاوا ثابت ہوئی، کیونکہ قیمتیں ایک مرتبہ پھر بڑھائی جا رہی ہیں۔شیوسینا (یو بی ٹی) نے مہنگائی کے لیے خشک سالی اور ایران امریکہ کشیدگی جیسے عالمی حالات کو بھی ذمہ دار قرار دیا۔ اداریے کے مطابق غذائی مہنگائی کی شرح 7.74 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور دالوں، اناج سمیت روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔’دیوالی سے قبل مہنگائی مین کا چابک پھر چلا‘، کمرشیل سلنڈر کی قیمت میں 17 روپے کے اضافے پر کانگریس کا سخت ردعملپارٹی نے دعویٰ کیا کہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات مکمل ہونے تک سیاسی مفادات کے تحت ایندھن اور ضروری اشیا کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر قابو میں رکھا گیا۔ اب انتخابات ختم ہونے کے بعد مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔اداریے میں مرکزی حکومت کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا گیا کہ عالمی سطح پر خلیجی جنگ جیسے حالات کے باوجود ایندھن کی قیمتوں کو قابو میں رکھا گیا تھا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل ختم ہوتے ہی حکومت عوام کو مہنگائی سے راحت دینے کے معاملے میں بے پروا نظر آنے لگی ہے۔