سری لنکا کی بحریہ نے تمل ناڈو کے 7 ماہی گیروں کو حراست میں لے لیا

Wait 5 sec.

سری لنکا کی بحریہ نے اتوار (یکم نومبر) کی علی الصبح تمل ناڈو کے رامیشورم اور تھنگاچی مڈم کے 7 ماہی گیروں کو حراست میں لے لیا۔ ماہی گیروں کے خلاف اس طرح کی کارروائیوں کے باعث حکومت سے بار بار مداخلت کرنے اور ماہی گیری سے متعلق اس تنازعہ کا مستقل حل نکالنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تمل ناڈو کے محکمہ ماہی گیری کے افسران نے بتایا کہ ماہی گیروں کی کشتی اس وقت بحریہ کے اہلکاروں نے پکڑ لی جب وہ کچاتیوو جزیرے اور شمالی منار کے درمیان مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔ غیر قانونی طور پر مچھلیاں پکڑنے کے الزام میں ان ماہی گیروں کو حراست میں لے لیا گیا اور ان کی کشتی کے ساتھ سری لنکا کی ایک بحری بندرگاہ پر لے جایا گیا۔STORY | Sri Lanka Navy apprehends 7 Indian fishermen, seizes trawler for poachingThe Sri Lanka Navy on Sunday held seven Indian fishermen and seized their trawler for allegedly poaching in the island nation's territorial waters.READ: https://t.co/rrhl8IzZii pic.twitter.com/XnDcaSUIdA— Press Trust of India (@PTI_News) November 1, 2026افسران نے حراست میں لیے گئے ماہی گیروں کی شناخت پلاسیئس (41)، الگو پانڈی (22)، انتھونی پچائی (33)، رابن (21)، نیلسن (58)، ارولانندا زیویئر (65) اور ساہائے آنند (34) کے طور پر کی ہے۔ یہ تمام 7 افراد ضلع رام ناتھ پورم کی ماہی گیر برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ محکمہ ماہی گیری نے ہفتہ کے روز مچھلی پکڑنے کے لیے 398  ٹوکن جاری کیے تھے۔ سمندر میں جانے والے ماہی گیروں کو اتوار کی شام تک واپس آنا تھا، لیکن اپنا سفر مکمل کرنے سے قبل ہی ان 7 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ ماہی گیروں کے ایک لیڈر نے کہا کہ ’’ہم ساحلی ضلع کی تمام ماہی گیر تنظیموں کا اجلاس بلائیں گے اور آئندہ کی حکمت عملی طے کریں گے۔‘‘واضح رہے کہ یہ تازہ واقعہ 3 اکتوبر کو رامیشورم کے 9 ماہی گیروں کی گرفتاری اور ان کی مشینی کشتی ضبط کیے جانے کے بعد پیش آیا ہے۔ اس واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ وجے نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے مداخلت کی اپیل کی تھی۔ 5 اکتوبر کو لکھے گئے اپنے خط میں وجے نے سری لنکا کی حراست میں موجود 20 ماہی گیروں کی رہائی اور ضبط کی گئی 270 کشتیوں کو واپس دلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے ماہی گیری سے متعلق دو طرفہ مشترکہ ورکنگ گروپ کے ذریعے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی بھی اپیل کی تھی۔اس سے قبل جولائی میں رامیشورم سے گئے 9 ماہی گیروں کو شمالی منار میں مچھلیاں پکڑنے کے دوران گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کی کشتی بھی ضبط کر لی گئی تھی اور عملے کو منار کے ایک بحری کیمپ میں لے جایا گیا تھا۔ مارچ میں بھی اسی طرح کا ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں رامیشورم کے 7 ماہی گیروں اور ان کی 2 کشتیوں کو پکڑ لیا گیا تھا۔ ان پر انٹرنیشنل میری ٹائم باؤنڈری لائن (آئی ایم بی ایل) عبور کرنے کا الزام تھا۔ اس وقت ماہی گیر تنظیموں نے ماہی گیروں اور ان کی کشتیوں کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔