ڈیموکریٹس جیت گئے تو ٹرمپ کیا کریں گے؟ بڑا پلان تیار

Wait 5 sec.

واشنگٹن : امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے جیتنے کی صورت میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اہم سیاسی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس صورتحال میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ حکمت عملی و پروگرام کیا ہوگا؟دوسری جانب متعدد لبرلز اور ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کے مطالبات بھی سامنے آرہے ہیں، تاہم بعض رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اس سے ریپبلکن ووٹرز مزید متحرک ہوسکتے ہیں۔برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کانگریس پر قابض ہوئے تو ٹرمپ کا منصوبہ ایگزیکٹو اختیارات سے حکومت چلانے کا ہوگا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس انتظامیہ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے کانگریس کا کنٹرول سنبھالنے کی صورت میں متبادل حکمت عملی تیار کرلی ہے، جس کے تحت کانگریس کی منظوری کے بغیر صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے اہم ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار اور منصوبے سے واقف دو افراد نے بتایا ہے کہ سینئر حکام گزشتہ کئی ماہ سے ایسے اقدامات کی نشاندہی کررہے ہیں جو صدر ٹرمپ کانگریس کی منظوری کے بغیر کرسکتے ہیں، ان میں امیگریشن، ٹیرف، رہائش کے اخراجات اور وفاقی حکومت کے اخراجات سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے قانونی ماہرین اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ صدر اپنے طور پر قانونی طور پر کیا اقدامات کرسکتے ہیں، صدارتی اختیارات کی حدود کہاں تک ہیں اور ممکنہ عدالتی چیلنج کی صورت میں ان اقدامات کا دفاع کس طرح کیا جاسکتا ہے۔تجویز کردہ اقدامات میں اہم معدنیات اور ونڈ ٹربائنز کی درآمد پر نئے ٹیرف عائد کرنا، بین الاقوامی طلبہ اور عارضی غیرملکی کارکنوں کے ویزوں کے لیے قواعد سخت کرنا اور مکانات کی تعمیر و رہائش کی لاگت کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔وفاقی اداروں کی جانب سے بھی ایسے اقدامات کی تجاویز اور قانونی جائزے پیش کیے گئے ہیں جنہیں کانگریس کی نئی قانون سازی کے بغیر نافذ کیا جاسکتا ہے۔وفاقی بجٹ کے حوالے سے بجٹ ڈائریکٹر رسل ووٹ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کانگریس کی جانب سے پہلے ہی منظور شدہ فنڈز میں سے کون سے حکومتی منصوبے انتظامیہ اپنی صوابدید کے تحت آگے بڑھا سکتی ہے۔ حکام کے مطابق وفاقی گرانٹس کے قواعد میں تبدیلی بھی زیر غور ہے، جس سے سیاسی طور پر مقرر کردہ حکام کو ٹیکس دہندگان کے پیسے سے چلنے والے پروگراموں کے لیے فنڈز کی تقسیم میں زیادہ اختیار مل سکتا ہے۔روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ کو ان تیاریوں سے آگاہ کیا جاچکا ہے اور وہ ان مباحث میں بھی شریک رہے ہیں۔ منصوبے سے واقف ایک شخص نے کہا کہ اگر کانگریس پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول ہوگیا تو ٹرمپ ایگزیکٹو اختیارات کے ذریعے حکومت چلانے میں ’’بہت مطمئن‘‘ ہوں گے۔کانگریس پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول ٹرمپ کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کا کنٹرول اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ موجودہ ایوان نمائندگان میں ریپبلکنز کو 218 کے مقابلے میں 214 نشستوں کی معمولی برتری حاصل ہے جبکہ سینیٹ میں ریپبلکنز کو 53 کے مقابلے میں 47 نشستیں حاصل ہیں۔ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے چار نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے۔ موجودہ رائے عامہ کے جائزوں میں ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں کامیابی کا امکان زیادہ جبکہ سینیٹ کی دوڑ سخت مقابلے کی حامل قرار دی جارہی ہے۔اگر ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان یا سینیٹ میں اکثریت حاصل کرتے ہیں تو وہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات، سماعتوں اور سب پینا کے ذریعے دستاویزات طلب کرنے کا اختیار حاصل کرلیں گے۔سینیٹ میں اکثریت ملنے کی صورت میں ٹرمپ کے عدالتی اور انتظامی عہدوں کے لیے نامزد افراد کی منظوری بھی مشکل ہوسکتی ہے۔تاہم ڈیموکریٹس کے لیے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو مکمل طور پر روکنا آسان نہیں ہوگا، صدر کو قانون سازی کو ویٹو کرنے کا اختیار حاصل ہے جبکہ تجارت، امیگریشن، خارجہ پالیسی اور وفاقی انتظامیہ کے کئی معاملات میں صدر کو وسیع انتظامی اختیارات حاصل ہیں۔ٹرمپ پہلے ہی اپنے دوسرے دورِ صدارت میں صدارتی اختیارات کا وسیع استعمال کرچکے ہیں۔ ان کی انتظامیہ نے ٹیرف، امیگریشن قوانین کے نفاذ، وفاقی ملازمین کی تعداد میں کمی اور خارجہ پالیسی سمیت مختلف معاملات میں کانگریس کی نئی قانون سازی کے بغیر اقدامات کیے ہیں۔رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے قومی ہنگامی حالت کے اختیارات کو بھی متعدد مرتبہ استعمال کیا ہے، جس سے انہیں بعض معاملات میں نئی قانون سازی کے بغیر کارروائی کا راستہ ملا۔ تاہم کانگریس ان ہنگامی حالتوں کو ختم کرنے کے لیے ووٹ دے سکتی ہے، اگرچہ صدر کے ویٹو کو ختم کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔وائٹ ہاؤس کو تحقیقات کا بھی سامنا ہوگاڈیموکریٹس کے کانگریس پر قابض ہونے کی صورت میں وائٹ ہاؤس کو صرف قانون سازی کی رکاوٹوں کا سامنا نہیں ہوگا بلکہ انتظامیہ کے خلاف وسیع پیمانے پر تحقیقات بھی شروع ہوسکتی ہیں۔اسی خدشے کے پیش نظر وائٹ ہاؤس کے وکلا سیاسی طور پر مقرر کردہ عہدیداروں اور وفاقی اداروں کے سربراہان کو کانگریسی تحقیقات، دستاویزات کی طلبی اور سب پینا سے نمٹنے کے طریقہ کار سے آگاہ کررہے ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق حکام کو تحریری رابطوں میں محتاط رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔یوں اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو واشنگٹن میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ اپنے ایجنڈے کو ایگزیکٹو اختیارات کے ذریعے آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی، جبکہ دوسری جانب کانگریس کی تحقیقات اور ممکنہ عدالتی مقدمات وائٹ ہاؤس کے لیے بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔