امریکی سینیٹ کا کنٹرول کس کے پاس ہوگا؟ مڈٹرم انتخابات میں 6 ریاستوں میں کانٹے دار مقابلہ

Wait 5 sec.

واشنگٹن :امریکی سینیٹ کا کنٹرول کس کے پاس ہوگا؟ مڈٹرم انتخابات میں 6 نشستیں فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہیںتفصیلات کے مطابق امریکی وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات کے موقع پر امریکی سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان زبردست معرکہ جاری ہے۔موجودہ سینیٹ میں ریپبلکنز کو 53 اور ڈیموکریٹس کو 47 نشستیں حاصل ہیں، سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کو کم از کم 4 اضافی نشستیں درکار ہیں، جس کے باعث پورے ملک کی نظریں 6 فیصلہ کن نشستوں پر ٹکی ہوئی ہیں۔مشی گن میں ڈیموکریٹک امیدوار ڈاکٹر عبدالسید اور ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے درمیان کاٹنے کا مقابلہ ہے، اس نشست پر سابق امریکی صدر باراک اوباما اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اپنے امیدواروں کے لیے بھرپور اور زوردار انتخابی مہم چلائی ہے۔FOLLOW US ON ARY TUBEروایتی طور پر اہم ترین سمجھی جانے والی ریاست ٹیکساس میں ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹیلارکو اور ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کے درمیان سخت اور کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔روایتی طور پر ریپبلکن جھکاؤ رکھنے والی آئیووا ریاست میں حیران کن تبدیلی دیکھی جا رہی ہے جہاں ڈیموکریٹک امیدوار جوش ٹورک کی مضبوط پوزیشن نے ریپبلکن امیدوار ایشلے ہنسن کے لیے مقابلے کو انتہائی سخت اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔الاسکا کا انتخابی دنگل ملک کے سب سے قریب اور اہم ترین مقابلوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جہاں ڈیموکریٹک امیدوار میری پیلٹولا اور ریپبلکن امیدوار ڈین سلیوان آمنے سامنے ہیں۔مین میں سینیٹ کے توازن کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی نشست پر ریپبلکن امیدوار سوزن کولنز اور ڈیموکریٹک امیدوار ٹرائے جیکسن کے درمیان کڑا مقابلہ جاری ہے۔ریپبلکنز کے مضبوط گڑھ مانی جانے والی جنوبی کیرولائنا میں غیر متوقع طور پر بڑا مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں ڈیموکریٹک امیدوار اینی اینڈریوز کو عوامی سطح پر غیر متوقع پذیرائی ملی ہے اور وہ ریپبلکن امیدوار ڈارلین گراہم کو سخت ٹکر دے رہی ہیں۔ان 6 اہم ریاستوں کے انتخابی نتائج ہی اس بات کا تعین کریں گے کہ واشنگٹن میں آئندہ دو سالوں کے لیے سینیٹ کی باگ ڈور ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں آئے گی یا ریپبلکنز کا اقتدار برقرار رہے گا۔