دنیا میں آخر ہونے کیا جارہا ہے؟ 33 ممالک کا شہریوں کے لیے الرٹ جاری

Wait 5 sec.

واشنگٹن / پیرس / برلن: جنگ کے خدشات، عالمی سیاسی کشیدگی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی، 33 ممالک کی شہریوں کو ایمرجنسی راشن ذخیرہ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔تفصیلات کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سیاسی و عسکری کشیدگی، جنگ کے خدشات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا کے 33 ممالک نے اپنے شہریوں کو کسی بھی بڑے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر خوراک، پینے کا پانی اور ضروری ادویات و سامان ذخیرہ کرنے کی ہدایات جاری کر دی۔ان ہدایات کے بعد عالمی سطح پر یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ کیا دنیا کسی تباہ کن بحران یا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکی ہے؟فرانس اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو کم از کم 72 گھنٹے (3 دن) کی بنیادی ضروریات کا سامان محفوظ رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔کینیڈا، جاپان، میکسیکو اور نیدرلینڈز نے شہریوں کو 3 دن کا ہنگامی ذخیرہ (پانی، خشک خوراک اور ادویات) رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔FOLLOW US ON ARY TUBEسویڈن اور ناروے نے بھی شہریوں کو کم از کم ایک ہفتے (7 دن) کا راشن اور ضروری سامان گھروں میں رکھنے پر زور دیا ہے۔اس کے علاوہ جرمن حکومت نے اپنے شہریوں کو 10 دن کی ہنگامی ضروریات پوری کرنے کے لیے اشیائے ضروریہ محفوظ کرنے کی ہدایت کی ہے۔امریکی شہریوں کو کئی دنوں کی ہنگامی اشیاء رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ یورپی یونین نے یورپی خطے کے لیے مکمل ہنگامی تیاریوں کی جامع حکمتِ عملی فعال کر دی ہے۔ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ان ہنگامی ہدایات کی بنیادی وجوہات میں خطے میں پھیلتی ہوئی جنگیں، جوہری تصادم کے بڑھتے ہوئے خطرات، سائبر حملوں کے ذریعے بنیادی سہولیات (بجلی و پانی) کی بندش اور غیر متوقع قدرتی آفات شامل ہیں۔حکومتیں چاہتی ہیں کہ کسی بھی بڑے عالمی بحران یا انفراسٹرکچر کی تباہی کی صورت میں شہری ابتدائی چند دن خود اپنے وسائل پر زندہ رہ سکیں۔