ٹرمپ کی مخالفت، اوباما کی حمایت! مشی گن سینیٹ کا انتخاب توجہ کا مرکز بن گیا

Wait 5 sec.

مشی گن : امریکی سیاست میں مشی گن سینیٹ کی نشست پر سب کی نظریں مرکوز ہیں، سینیٹ میں طاقت کا توازن مشی گن کے انتخابی نتائج سے متاثر ہوسکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست مشی گن میں سینیٹ کی نشست کے لیے انتخاب غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا، سینیٹ میں ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان اقتدار کے نازک توازن کا فیصلہ بھی اسی نشست پر منحصر ہے۔مشی گن سینیٹ کی نشست پر ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر عبدالسید کی کامیابی سینیٹ کا کنٹرول بدل سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کی شدید مخالفت اور اوباما کی حمایت نے مقابلے کو سنسنی خیز بنا دیا۔امریکہ میں جاری وسط مدتی انتخابات کے دوران ریاست مشی گن کا سینیٹ کا انتخاب ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مرکزی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ڈیموکریٹک امیدوار ڈاکٹر عبدالسید کی یہ انتخابی مہم نہ صرف امریکی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر سکتی ہے بلکہ سینیٹ میں ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان اقتدار کے نازک توازن کا فیصلہ بھی اسی نشست پر منحصر ہے۔مشی گن سینیٹ کی اس نشست پر ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر عبدالسید کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز سے ہے، اگر ڈاکٹر عبدالسید یہ انتخاب جیت جاتے ہیں تو وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان اور مصری نژاد امریکی سینیٹر بن جائیں گے۔FOLLOW US ON ARY TUBEصدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت اور سابق صدر باراک اوباما کی حمایت نے اس انتخاب کو مزید نمایاں کردیا ہے، یہ نشست اس سے قبل سبکدوش ہونے والے ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز کے پاس تھی۔موجودہ امریکی سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کو 53 نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل ہے جبکہ ڈیموکریٹس اور ان کے اتحادی آزاد ارکان 47 نشستوں پر ہیں۔ڈیموکریٹس کو سینیٹ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کم از کم 4 اضافی نشستیں درکار ہیں، جس کی وجہ سے مشی گن کا معرکہ دونوں جماعتوں کے لیے انتہائی فیصلہ کن بن چکا ہے۔عبدالسید نے دو ہزار چھبیس میں ڈیموکریٹک پرائمری جیت کر سینیٹ کے امیدوار بننے کا اعزاز حاصل کیا، ان کے انتخابی ایجنڈے میں سستی طبی سہولتوں کی فراہمی، رہائشی اخراجات میں کمی اور عام امریکیوں کے معاشی حالات بہتر بنانا شامل ہے۔وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق امریکی خارجہ پالیسی پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔انتخابی مہم کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عبدالسید پر شدید تنقید کی گئی، انہیں "جہادی” قرار دیا گیا اور ان کی امریکی وفاداری پر سوالات اٹھائے گئے۔دوسری جانب اگست 2026ء میں پرائمری ہارنے والی ڈیموکریٹ رہنما ہیلی اسٹیونز نے یکم نومبر کو اپنی ہی پارٹی کے امیدوار کی حمایت کرنے کے بجائے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کر دیا، جس پر ڈیموکریٹک حامیوں کی جانب سے شدید ردعمل اور نعرے بازی بھی دیکھنے میں آئی۔انتخابی سرگرمیوں کے آخری مراحل میں سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ڈیٹرائٹ میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالسید کی کھل کر حمایت کی اور کہا کہ وہ ایسی تبدیلی لانا چاہتے ہیں جو سیاست پر دولت کے اثر و رسوخ کو کم کر کے عام شہریوں کے لیے معاشی بہتری لائے۔مشی گن کا یہ انتخاب اب محض ایک سیاسی نشست کا مقابلہ نہیں رہا، بلکہ یہ امریکی سیاست میں مذہبی شناخت، اقلیتوں کی نمائندگی، خارجہ پالیسی اور کانگریس میں طاقت کے توازن کا سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے جس کے نتائج واشنگٹن کی آئندہ دو سالہ پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔