’دو راستے ہیں امریکا مذاکرات کرے یا دوبارہ فوجی جارحیت کی غلطی دہرائے‘

Wait 5 sec.

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دوحا اور اسلام آباد ایران امریکا مذاکرات میں فعال ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں ثالثی عمل میں درجنوں ٹیلی فونک رابطے اور بھرپور سفارتی کوششیں کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران سفارتکاری اور جنگ دونوں صورتحال کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے اب فیصلہ واشنگٹن کو کرنا ہے کہ مذاکرات کا دانشمندانہ راستہ اپناتا ہے یا نہیں، دو راستے ہیں امریکا مذاکرات  کرے یا دوبارہ فوجی جارحیت کی غلطی دہرائے۔عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے سفارتی حل کیلئے واضح منصوبہ اور منصفانہ شرائط پیش کر دی ہیں دشمن کی جانب سے کسی نئے فوجی تجربے یا دھوکے کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہو گا، ایران کسی قسم کےدباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات بحالی کا انحصار ہماری شرائط تسلیم کرنے پر ہے علی باقری کا دورہ بیجنگ خطے میں امن اور استحکام کیلئے اسٹریٹجک مشاورت کا حصہ ہے، اہم شراکت داروں کے ساتھ علاقائی امن اور سلامتی کے امور پر مسلسل رابطے میں ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے فوجی کارروائی خطے کی صورتحال مزید خراب کرسکتی ہے، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کا فروغ ایرانی خارجہ پالیسی کی مستقل ترجیح ہے۔وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایران اور ترکمانستان کے درمیان متعدد شعبوں میں منصوبوں پرپیش رفت کا جائزہ لیا ترکمانستان کی قیادت کو خطے کی تازہ صورتحال اور ایران امریکا مذاکرات سے آگاہ کیا۔ایران پر ایٹمی حملے کی تیاری ؟ امریکی صحافی کا تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا