اسٹاک ہوم / برسلز/ لندن : یورپ کی بڑی مارکیٹوں کے سینکڑوں فریجوں پر ایک بار پھر بڑے سائبر حملوں کے سبب صورتحال تشویشناک ہوگئی، روزانہ بڑی مقدار میں خوراک ضائع ہونے لگی۔ہیکرز نے سپر مارکیٹوں کے فریجوں اور فریزرز کا درجہ حرارت بڑھا کر 50 سے 70 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا دیا، جس سے کھانے پینے کی اشیاء کو شدید نقصان پہنچا۔روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق یورپ کے مختلف ممالک میں سپر مارکیٹوں کے فریج اور فریزر ایک بار پھر سائبر حملوں کا نشانہ بن گئے، جس کے نتیجے میں کولنگ سسٹمز کا درجہ حرارت اچانک بڑھ گیا اور بڑی مقدار میں خوراک خراب ہوگئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیر کو سوئیڈن سے بیلجیئم تک مختلف سپر مارکیٹ چینز میں سائبر حملوں کے نتیجے میں ریفریجریشن اور فریزر سسٹمز بری طرح متاثر ہوئے۔بیلجیئم اور لکسمبرگ میں درجنوں اسٹورز کے فریج اور فریزر متاثر کیے، جبکہ سویڈن کی معروف گروسری چینز آئی سی اے اور کُوپ میں بھی اسی نوعیت کے واقعات رپورٹ ہوئے۔اسٹاک ہوم میں ایک آئی سی اے فرنچائز اسٹور کی سیلز منیجر اینگلا انگوال نے روئٹرز کو بتایا کہ سائبر حملے کے بعد تمام فریزرز کا درجہ حرارت تقریباً 50 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا تھا۔ان کے مطابق حملہ رات تقریباً 2 بجے ہوا، تاہم اس کا علم کئی گھنٹے بعد ہوا، جس کے نتیجے میں اسٹور میں موجود اشیا خراب ہوگئیں۔سوئیڈن کے نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر نے ملک بھر میں گروسری اسٹورز کو متاثر کرنے والے متعدد واقعات کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔بیلجیئم میں کیریفور کے مطابق اس کے 700 اسٹورز میں سے 15 اس حملے سے متاثر ہوئے، جبکہ Colruyt گروپ نے بتایا کہ اس کے فرنچائز نیٹ ورک کے پانچ ایس پی اے آر اسٹورز کے ریفریجریشن سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا۔آئرلینڈ میں بھی فوڈ ہول سیلر مسگریو نے بتایا کہ اس کے 13 سپر ویلیو اسٹورز کے ریفریجریشن سسٹمز سائبر واقعے سے متاثر ہوئے، جس کے بعد احتیاطاً کچھ ٹھنڈی اور منجمد اشیا فروخت سے ہٹا دی گئیں۔یاد رہے کہ اس قبل بھی گزشتہ ماہ فرانس میں سیکڑوں سپر مارکیٹوں کے کولنگ یونٹس پر سائبر حملے کیے گئے تھے۔ ہیکرز نے کولنگ سسٹمز کا درجہ حرارت بڑھا دیا تھا، جس سے بعض مقامات پر آگ لگنے اور خوراک ضائع ہونے کے واقعات پیش آئے تھے۔رائٹرز کے مطابق تازہ حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی اور یہ بھی واضح نہیں کہ سوئیڈن، بیلجیئم اور دیگر یورپی ممالک میں ہونے والے تازہ حملوں کا گزشتہ ماہ فرانس میں پیش آنے والے واقعات سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق جدید ریٹیل اسٹورز میں فریج، ہیٹنگ سسٹمز، سیکیورٹی کیمرے، الارم، دروازوں کے کنٹرول اور پوائنٹ آف سیل مشینیں نیٹ ورک سے منسلک ہوتی جارہی ہیں، جس سے حملہ آوروں کے لیے آسانی اور نئے راستے پیدا ہوگئے ہیں۔حالیہ واقعات نے یورپی ممالک میں اس خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے کہ سائبر حملے اب صرف کمپیوٹرز اور ڈیٹا تک محدود نہیں رہے بلکہ روزمرہ زندگی سے جڑے جسمانی اور صنعتی نظام بھی ان کا نشانہ بن سکتے ہیں۔فرانس، وزارت داخلہ کی ویب سائٹس پر سائبر حملہ، حساس ڈیٹا تک رسائی