بیجنگ(2 اکتوبر 2026): چین سے تعلق رکھنے والے ایک 24 سالہ یتیم نوجوان نے شادی کے موقع پر خاندان کا کوئی فرد نہ ہونے پر آن لائن پلیٹ فارم کا سہارا لیا۔چین سے تعلق رکھنے والے ایک 24 سالہ یتیم نوجوان نے شادی کے موقع پر خاندان کا کوئی فرد نہ ہونے پر انویسٹمنٹ اور آن لائن پلیٹ فارم کا سہارا لیا، جہاں اس نے اجنبیوں کو اپنی شادی میں شرکت کی دعوت دی تو دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں افراد اس خوشی میں شریک ہو گئے، جنہوں نے نہ صرف تقریب کو رونق بخشی بلکہ تحائف اور شادی کا سامان بھی تحفے میں دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کے صوبہ یوننان کے شہر ژاؤٹونگ سے تعلق رکھنے والے شیاؤ شیاؤ شو جب صرف تین سال کے تھے تو ان کے والد کا انتقال ہو گیا تھا، اور والدہ نے دوسری شادی کر لی تھی، جس کے بعد وہ اور ان کے بڑے بھائی نے ایک دوسرے کا سہارا بن کر زندگی گزاری۔نوجوان نے شادی کے لیے پیسے تو بچا لیے تھے لیکن اسے شدید خوف تھا کہ رشتے داروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس کی شادی میں کوئی شریک نہیں ہو گا، اسی فکر کے پیش نظر اس نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لوگوں کو اپنی شادی میں آنے کی دعوت دی۔Many say this is one of the largest folk weddings across China.The groom Xiao Xu from Yunnan lost his parents at a young age.With no close family beside him, he works as an ordinary migrant worker.Worried his wedding would be cold and quiet,he put out a gentle invitation online for anyone willing to come.Nearly thousands of warm‑hearted volunteers answered his call.Dozens of wedding convoys arrived,over 100 volunteer chefs cooked nonstop,and tons of donated food and supplies poured into the mountain village.Strangers travelled hundreds of miles just to stand by him.What could have been a lonely ceremonybecame a nationwide embrace of kindness and humanity.— Sharing Travel (@TripInChina) October 31, 2026نوجوان کی اس جذباتی اپیل پر انٹرنیٹ صارفین کا دل پگھل گیا اور گاؤں میں ہونے والی اس شادی کا منظر بالکل بدل گیا۔ تقریب کے لیے نہ صرف کثیر تعداد میں لوگ پہنچ گئے بلکہ باورچی خود چل کر آ گئے، شادی کی گاڑیوں کا قافلہ ترتیب دینے والے رضاکار بھی پہنچ گئے۔جبکہ لوگوں نے گھر کو سجانے، دعوت کے لیے کھانے کا سامان لانے اور شادی کی مٹھائیاں تقسیم کرنے میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اجنبیوں کی اس خلوص بھری مہربانی نے اس عام سی شادی کو ایک چھوٹے سے گاؤں میں صدی کی یادگار تقریب بنا دیا۔سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے جذباتی تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ انسانیت کا یہ خوبصورت روپ دیکھ کر آنکھیں بھر آئیں، جبکہ دیگر صارفین نے بھی جوڑے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان تمام لوگوں کی تعریف کی جنہوں نے اس یتیم نوجوان کے بڑے دن کو خوشیوں بھرے تہوار میں بدل دیا۔