واشنگٹن : امریکی مڈٹرم انتخابات میں حصہ لینے والے مسلمان امیدوار لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، کامیابی کی صورت میں یہ امیدوار کانگریس کی آئندہ کی سیاسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق امریکی وسط مدتی (مڈٹرم) انتخابات میں مختلف ریاستوں سے تقریباً 51 مسلمان امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں، جو امریکی سیاست میں نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔ان میں سے 11 امیدوار امریکی کانگریس (سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان) کے لیے میدان میں ہیں اور واشنگٹن کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔دیگر 40 امیدوار مختلف ریاستوں کی اسمبلیوں، مقامی حکومتوں اور عدالتی عہدوں کے لیے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ڈاکٹر عبدالسید سینیٹ کی نشست کے لیے امیدوار ہیں، اگر وہ یہ الیکشن جیت جاتے ہیں تو وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن جائیں گے۔امریکا کی 8 مختلف ریاستوں سے ایوان نمائندگان کی دوڑ میں 7 ڈیموکریٹ، 1 ریپبلکن اور 2 آزاد امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ایوانِ نمائندگان کے 7 مسلمان امیدواروں میں میں انڈیانا سے آندرے کارسن، مینیسوٹا سے الہان عمر اور مشی گن سے رشیدہ طلیب شامل ہیں۔کیلیفورنیا سے عائشہ وہاب اور لطیفہ سائمن بھی ڈیموکریٹک امیدوار کے طور پر انتخابی میدان میں ہیں، جبکہ نیوجرسی سے ڈاکٹر آدم حماوی اور نیویارک سے ڈاریالیزا آویلا شیوالیے بھی اسی جماعت کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہی ہیں۔ریپبلکن پارٹی کے امیدوار زہدی جاسر ایریزونا سے ایوانِ نمائندگان کی نشست کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں، جبکہ ورجینیا سے احسن مجیب ملک اور الہہ احرار آزاد امیدواروں کے طور پر انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔الہہ احرار افغان نژاد امریکی سماجی کارکن، شاعرہ اور سیاست دان ہیں۔مسلم نیٹ ورک ٹی وی کے مطابق ان امیدواروں میں کانگریس کے علاوہ ریاستی اسمبلیوں، کاؤنٹی اور مقامی حکومتوں سمیت عدالتی عہدوں کے لیے انتخاب لڑنے والے امیدوار بھی شامل ہیں، مجموعی طور پر یہ امیدوار امریکا کی تقریباً 23 ریاستوں میں انتخابی میدان میں ہیں۔امریکی سیاست میں مسلمان امیدواروں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو سیاسی نمائندگی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔