سڑکوں پر جگہ جگہ گڈھے ہوں اور طویل عرصے تک مرمت نہ کی جائے تو لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہونا فطری ہے۔ بہار کے بیگو سرائے میں انہی پریشانیوں کے سبب دیہی باشندوں نے احتجاج کا دلچسپ طریقہ اختیار کیا ہے، جو سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ مقامی باشندوں نے ٹوٹی ہوئی سڑکوں کا نام رکن پارلیمنٹ گری راج سنگھ اور رکن اسمبلی کندن کمار کے نام پر رکھ دیا ہے۔ گڈھوں کا نام بھی برسراقتدار طبقہ کے لیڈران کے نام پر رکھا گیا ہے، تاکہ انھیں شرمندگی محسوس ہو۔ جو تصویریں سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں، ان میں کسی گڈھے کا نام ’گری راج کنڈ‘ رکھا گیا ہے، تو کسی کا نام ’کندن کنڈ‘ رکھا گیا ہے۔ اس دلسچت احتجاج کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔बिहार के बेगूसराय में बदहाल सड़क से परेशान ग्रामीणों ने अनोखे तरीके से विरोध जताया. सड़क के गड्ढों को लेकर अनोखा नामकरण किया गया, कहीं सांसद गिरिराज कुंड तो कहीं विधायक कुंदन कुंड नाम दिया गया. तस्वीरों के साथ तख्तियां लगाकर किए गए इस विरोध का वीडियो अब सोशल मीडिया पर वायरल हो… pic.twitter.com/kwChoZrhoS— AajTak (@aajtak) November 2, 2026یہ معاملہ ضلع بیگوسرائے کے ویرپور بلاک علاقے کی پرا پنچایت کا ہے۔ یہاں پرا-سرونجا سڑک کی خستہ حالی سے پریشان دیہی باشندوں نے احتجاج کا یہ انوکھا طریقہ اختیار کیا۔ دیہی باشندوں نے رکن پارلیمنٹ گری راج سنگھ اور رکن اسمبلی کندن کمار کی تصویروں والی تختیاں تیار کیں۔ ان پر سڑک کے گڈھوں کے لیے ’گری راج کنڈ‘ اور ’کندن کنڈ‘ جیسے نام لکھے گئے۔ اس کے بعد لوگ سڑک پر بنے گڈھوں کے پاس پہنچے اور وہاں تختیاں لگا کر ان کا نام رکھنے لگے۔ ویڈیو میں نوجوان تصاویر والی تختیاں لے کر سڑک کے الگ الگ گڈھوں کے پاس جاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس دوران دیہی باشندوں نے سڑک کی خستہ حالی پر اپنی ناراضگی ظاہر کی اور جلد از جلد اس کی مرمت کرانے کا مطالبہ کیا۔دیہی باشندوں کا پیغام واضح ہے کہ جب سڑکوں کے مسائل طویل عرصے تک حل نہیں ہوتے ہیں تو ذمہ دار نمائندے کی توجہ مرکوز کرانے کے لیے اس نوعیت کے احتجاج کی ضرورت پڑتی ہے۔ لوگوں نے وارننگ دی ہے کہ اگر سڑک کی مرمت نہیں ہوتی ہے تو باضابطہ تحریک چلائی جائے گی۔ مقامی باشندوں کے مطابق پرا-سرونجا سڑک کی حالت کافی دنوں سے خراب ہے۔ دیہی باشندوں کا الزام ہے کہ 2020 میں کندن کمار کے رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد گزشتہ 6 برسوں میں سڑک کی تعمیرات کے حوالے سے اقدامات نہیں کیے گئے۔ حالانکہ اس الزام پر متعلقہ عوامی نمائندوں یا محکمہ کا موقف سامنے آنا باقی ہے۔ سڑک پر مختلف جگہوں پر بڑے بڑے گڈھے ہوگئے ہیں۔ جس کی وجہ سے دو پہیہ گاڑیوں، رکشہ، آٹو اور کاروں سے آمد و رفت کرنے والوں کو بے حد دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔’تعلیم سے ہی آبادی پر قابو پایا جا سکتا ہے‘، کانگریس لیڈر اُدت راج کا گری راج سنگھ کو سخت جوابدیہی باشندوں کے مطابق برسات کے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے۔ گڈھوں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے گہرائی کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہو جاتا ہے، اور حادثوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ دیہی باشندوں کا کہنا ہے کہ پرا پنچایت کو ماڈل پنچایت کہا جاتا ہے، لیکن سڑک کی حالت ترقی کے دعوؤں پر سوالیہ نشان کھڑے کرتی ہے۔ لوگوں میں اس بات پر بھی ناراضگی ہے کہ سڑک کے مسئلے کا مستقل حل نہیں نکل پا رہا ہے۔ دیہی باشندوں کا کہنا ہے کہ گڑھوں کو عوامی نمائندوں کا نام دینا، ان کا علامتی احتجاج ہے۔ اس کے ذریعے وہ اپنے مسئلے کو عوامی سطح پر سامنے لانا چاہتے ہیں، تاکہ متعلقہ افسران اور عوامی نمائندوں کی توجہ اس جانب مبذول ہو سکے۔