ٹرمپ کا ایران کیساتھ جاری کشیدگی کو جنگ ماننے سے انکار

Wait 5 sec.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کیساتھ جاری کشیدگی کو جنگ ماننے سے انکار کر دیا۔امریکی ٹی وی سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ نہیں لڑ رہا  یہ محدود نوعیت کی لڑائی ہے، ایران اس وقت کمزور پوزیشن میں ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا جب چاہے یہ معاملہ ختم کر سکتا ہے امریکا معاہدے کے ذریعے تنازع حل کرنا چاہتا ہے تاکہ جانیں بچائی جاسکیں، ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن مذاکرات میں تاخیر کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا مکمل برتری کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔دوسری جانب ایرانی اسپیکر باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ اب جنگ کو روکنے کےلیے گیند امریکا کے کورٹ میں ہے، خطے کے ممالک کو معلوم ہونا چاہیے ایران انگلی ٹریگر پر رکھ کر بیٹھا ہے۔قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دوحا اور اسلام آباد ایران امریکا مذاکرات میں فعال ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں ثالثی عمل میں درجنوں ٹیلی فونک رابطے اور بھرپور سفارتی کوششیں کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران سفارتکاری اور جنگ دونوں صورتحال کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے اب فیصلہ واشنگٹن کو کرنا ہے کہ مذاکرات کا دانشمندانہ راستہ اپناتا ہے یا نہیں، دو راستے ہیں امریکا مذاکرات کرے یا دوبارہ فوجی جارحیت کی غلطی دہرائے۔عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے سفارتی حل کیلئے واضح منصوبہ اور منصفانہ شرائط پیش کر دی ہیں دشمن کی جانب سے کسی نئے فوجی تجربے یا دھوکے کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہو گا، ایران کسی قسم کےدباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔