مہاراشٹر میں 3000 میگاواٹ کے پمپڈ اسٹوریج ہائیڈرو پاور پلانٹ کی تعمیر کے لیے ہزاروں درختوں کی کٹائی کا معاملہ سرخیوں میں آ گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس منصوبہ کو ٹورینٹ پاور 13505 کروڑ روپے کے خرچ سے عملی جامہ پہنا رہا ہے، جسے 2029 تک فعال کرنے کا ہدف ہے۔ اس کے لیے رائے گڑھ ضلع میں سہیا دری پہاڑی سلسلہ کے ساتھ ہی 377 ہیکٹیئر زمین درکار ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے تقریباً 32000 درخت کاٹے جائیں گے۔ اس تعلق سے ایک تفصیلی رپورٹ انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں شائع ہوئی ہے۔ اس خبر کا تراشہ شیئر کرتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے برسراقتدار طبقہ کو ہدف تنقید بنایا ہے۔Yet another example of ecological devastation that is being inflicted on the people of our country. Who enjoys the gains and who bears the pain? https://t.co/Ua7sOAFNmM— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) November 3, 2026جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’یہ ماحولیاتی تباہی کی مزید ایک مثال ہے، جس کا خمیازہ ہمارے ملک کی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے سوال کیا ہے کہ ’’اس سے فائدہ کس کو حاصل ہو رہا ہے اور اس کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟‘‘ دراصل 1100 درختوں کی کٹائی کے سبب تقریباً 150 قبائلی خاندانوں کی وہاں سے منتقلی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ گویا کہ 3000 میگاواٹ والے پمپڈ اسٹوریج ہائیڈرو پاور پلانٹ پروجیکٹ کے نقصانات ابھی سے سامنے آنے لگے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے اپنی رپورٹ میں موجودہ حالات اور متاثرین کے بیانات کو خاص طور سے اپنی رپورٹ کا حصہ بنایا ہے۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’گزشتہ ہفتہ درخت کی کٹائی کو روکے جانے سے قبل تقریباً 1100 درخت کاٹے جا چکے تھے۔ کٹے درخت جنگل کے اندر ڈھیروں کی شکل میں پڑے ہیں اور اب وہاں محافظ تعینات ہیں، تاکہ وہ دیہاتی انہیں اٹھا کر نہ لے جا سکیں، جو نسلوں سے اس جنگل سے سوکھی لکڑیاں جمع کرتے آئے ہیں۔‘‘ یہ دیہاتی دراصل قبائلی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور جنگل کی لکڑیاں جمع کر اس پر کھانا بھی بناتے ہیں اور فروخت بھی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پالی گاؤں کے رہنے والے 52 سالہ وشنو شنکر پوار کا کہنا ہے کہ ’’فی الحال ہم سوکھی لکڑیوں کا وہ ذخیرہ فروخت کر رہے ہیں، جسے ہم نے گزشتہ ہفتہ فروخت کے لیے جمع کر کے الگ رکھا تھا۔ جب یہ ذخیرہ ختم ہو جائے گا تو ہمیں نہیں معلوم کہ ہم اپنا گزارہ کیسے کریں گے۔‘‘بتایا جاتا ہے کہ درختوں کی کٹائی دسہرہ کی صبح شروع ہوئی تھی اور مقامی لوگوں کے احتجاج کے بعد اسے روک دیا گیا۔ درختوں کی کٹائی کا مقصد 3000 میگاواٹ کے پمپڈ اسٹوریج ہائیڈرو پاور پلانٹ کی تعمیر کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت پانی کو پمپ کے ذریعہ پہاڑی پر چڑھا کر ذخیرہ کیا جائے گا اور بجلی کی طلب بڑھنے پر اسے ٹربائنوں کے ذریعہ نیچے چھوڑ کر بجلی پیدا کی جائے گی۔ بظاہر یہ ہندوستان میں ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان جاری بحث کا مزید ایک باب ہے، لیکن اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ توقع ہے کہ اس پلانٹ سے مہاراشٹر کا کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس پر انحصار کم ہو جائے گا۔غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جس جنگل کو صاف کیا جائے گا، وہ اس علاقہ میں واقع ہے جسے مغربی گھاٹ سے متعلق ایک پینل نے کبھی انتہائی درجہ کے تحفظ کے لیے نشان زد کیا تھا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی سے نمی کے ان قدرتی چکروں میں تبدیلی آ سکتی ہے، جو دور دراز کے علاقوں میں بارش کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس جنگل پر انحصار کرنے والے قبائلی خاندانوں کے نام سرکاری ریکارڈ میں کبھی درج ہی نہیں کیے گئے کہ وہ اس جنگل سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ چنانچہ اس منصوبہ کو اس بنیاد پر منظوری دے دی گئی کہ نہ تو کسی کو معاوضہ دینے کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی کسی کو وہاں سے منتقل کرنا پڑے گا۔