سرکاری اسکولوں کے ساتھ اب پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ بھی کریں گے مردم شماری کا کام، مرکزی حکومت نے ضابطے میں کی ترمیم

Wait 5 sec.

ملک میں ہونے والی مردم شماری کی ذمہ داری اب صرف سرکاری اسکولوں کے اساتذہ تک محدود نہیں رہے گی۔ مرکزی حکومت نے اس کام کے لیے پرائیویٹ اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو بھی شامل کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ اس کے لیے مردم شماری کے ضابطہ 1990 میں ترمیم کی گئی ہے۔ نئے التزام کے تحت امداد یافتہ اور غیر امداد یافتہ پرائیویٹ اسکولوں، کالجوں، سوسائٹیوں اور ٹرسٹوں سے وابستہ اساتذہ کو بھی مردم شماری کی ڈیوٹی سونپی جا سکے گی۔अब सिर्फ सरकारी शिक्षकों की नहीं लगेगी जनगणना में ड्यूटी, प्राइवेट स्कूल-कॉलेज के टीचर भी होंगे शामिल; जानिए.. सरकार का प्लानhttps://t.co/aDJjIa510l— FirstBiharJharkhand (@firstbiharnews) November 3, 2026اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سرکاری اسکولوں کے اساتذہ تک جب یہ ذمہ داری محدود نہیں ہے تو ان کی جگہ اور کون ڈیوٹی کرے گا؟ مرکزی حکومت کی جانب سے کی گئی ترمیم کے بعد مردم شماری کے کام کے لیے ملازمین کا دائرہ بڑھایا گیا ہے۔ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے علاوہ اب پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کو بھی شمار کنندہ یعنی مردم شماری کا کارکن مقرر کیا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری شعبے کے اداروں (پی ایس یو)، بینکوں اور سرکاری و غیر سرکاری محکموں کے کلرکوں اور دیگر ملازمین کو بھی اس کام پر لگایا جا سکتا ہے۔ اس سے مردم شماری کے لیے دستیاب ملازمین کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور انتظامیہ کو مختلف اداروں سے ملازمین حاصل کرنے کا متبادل ملے گا۔’حکومت ہی فیصلہ کرے گی‘، مردم شماری میں او بی سی ذاتوں کی الگ فہرست کے مطالبے پر سپریم کورٹ کا تبصرہواضح رہے کہ اب تک مردم شماری جیسی قومی مہمات میں بنیادی طور پر سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی ڈیوٹی لگائی جاتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ انتخابات اور دیگر انتظامی کاموں میں بھی اساتذہ کی ذمہ داریاں طے کی جاتی ہیں۔ ایسے میں ان کی معمول کی تدریسی سرگرمیاں اور اسکول کے دیگر کام متاثر ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کو بھی مردم شماری کے کام میں شامل کرنے سے یہ ذمہ داری زیادہ لوگوں کے درمیان تقسیم کی جا سکے گی۔ اس سے سرکاری اساتذہ پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔’اس کے پیچھے کافی گڑبڑ جھالا ہے‘، مردم شماری سے متعلق مودی حکومت کے نئے فیصلہ پر کانگریس کی تنقیدقابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں آئندہ مردم شماری 2027 کے پیش نظر ملازمین کی دستیابی اہم ہے۔ یہ ملک گیر سطح پر ایک بڑی مہم ہوگی، جس کے لیے لاکھوں ملازمین کی ضرورت پڑے گی۔ ایسے میں مردم شماری کے کارکنوں کے زمروں میں اضافہ کرنے سے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ڈیوٹی کے لیے زیادہ متبادل ملیں گے۔ مردم شماری کے کام پر مقرر کیے جانے والے پرائیویٹ اساتذہ اور دیگر ملازمین کو بھی اس کام کے لیے خصوصی تربیت دی جائے گی۔ اس کے بدلے انہیں مقررہ اعزازیہ یعنی معاوضہ بھی دیا جائے گا۔ اس طرح پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ بھی مردم شماری کے عمل میں سرکاری ملازمین کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔