پیانگ یانگ(3 نومبر 2026): شمالی کوریا نے دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج "بائنانس” سے 6 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثوں کی ریکارڈ چوری میں ملوث ہونے کے امریکی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے "کے سی این اے” کے مطابق حکمراں جماعت کی رہنما اور لیڈر کم جونگ ان کی بااثر بہن کم یو جونگ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کا شمالی کوریا پر اس بڑے سائبر حملے میں ملوث ہونے کا الزام سراسر مضحکہ خیز اور من گھڑت پروپیگنڈا ہے۔کم یو جونگ نے امریکی الزامات کو شمالی کوریا کے خلاف ایک سنگین سیاسی اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن دنیا بھر میں ہونے والے سائبر جرائم کا بلاجواز ذمے دار شمالی کوریا کو ٹھہرا کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔واضح رہے کہ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے گزشتہ ہفتے یہ دعویٰ کیا تھا کہ بائنانس سے 6 ارب ڈالرز سے زائد مالیت کے ورچوئل اثاثوں کی یہ تاریخ کی سب سے بڑی چوری ہے، جس کے پیچھے شمالی کوریا کے ریاستی سرپرستی یافتہ ہیکنگ گروہ کا ہاتھ ہے۔اس کے علاوہ، کم یو جونگ نے امریکا کے ساتھ چوٹی کی سفارتی بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیشکش پر تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، تاہم انہوں نے تنبیہ کی ہے کہ امریکا کے اس "مخکانہ اور تلخ رویے” کی وجہ سے شمالی کوریا کو کچھ اہم امور پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔دوسری جانب، کرپٹو کرنسی کے ماہرین کا طویل عرصے سے یہ ماننا ہے کہ شمالی کوریا کے ہیکرز دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو چوروں میں شامل ہیں اور اس طرح کے غیر قانونی ذرائع سے حاصل ہونے والی رقوم کو ملک کے متنازع جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کی فنڈنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔تاہم، پیانگ یانگ ہمیشہ سے اس قسم کے تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتا آیا ہے۔دریں اثنا، متاثرہ پلیٹ فارم "بائنانس” کا کہنا ہے کہ اس تاریخی نقصان کو پورا کرنے کے لیے کمپنی نے اپنے مالیاتی ذخائر کا استعمال شروع کر دیا ہے تاکہ صارفین کے اثاثوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔